26-Aug-2019 /24- Dhu al-Hijjah-1440

Question # 1324


Taqseem Meras ka Tareeqa

مکرمی و محترمی
جناب مفتی صاحب
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
جناب عالی
ایک صاحب کا انتقال ہو گیا ھے
اس کی ایک بیوی، آیک بیٹا اور
چار شادی شدہ بیٹیاں ھیں
بیوہ بیٹے کے ساتھ رہتی ھے

بیٹا ساری جائیداد پر قبضہ
کرنا چاھتا ھے اور ماں بھی
اس کی طرفدار ھے

بیٹیاں عدالت میں دعوی دائر
کرنا چاھتی ھیں
ماں کہٹی ھے کہ اگر تم نے مقدمہ داءر کیا تو میں ناراض ھو جاہوں گی

جائیداد کے حصے کتنے ھوں گے اور ماں کی ناراضگی کا کیا حکم ھے
براہ کرم رہنمائی فرمائیں
جزاک اللہ خیرا احسن الجزا
شفاعت حسین

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: شفاعت حسین - Date: Apr 23, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
بعد ادائیگی اخراجات تجھیز و تکفین و ادائیگی قرض،اور ایک تہائی مال میں وصیت جاری کرنے کے(اگر کی ھو تو)،کل ترکہ کے 48 حصے کئے جائیں گے ۔
7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے 14 حصے بیٹے کو اور 6 حصے والدہ کو ملیں گے۔اوسط کے لحاظ سے
ہر بیٹی کو 14.6%
بیٹے کو 29.2%
والدہ کو 12.5 %
ملیں گے ۔
والدہ کا وراثت کی تقسیم پر ناراض ھونا ناجائز ھے ۔یہ اللہ کا حکم ھے ۔اور اللہ کے حکم پر ناراض ھونا سخت گناہ کی بات ھے ۔والدہ کو اس پر توبہ و استغفار کرنی چاھئے ۔اور بچیوں کو انکا شرعی حق فی الفور ادا کرنا چاھئے تاکہ آخرت کے وبال سے بچ سکیں۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح
مفتی زکریا
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
30 جمادی الثانی 1440
8 مارچ 2019



Share:

Related Question:

Categeories