21-May-2022 /19- Shawwāl-1443

Question # 8014


ہاتھ یا انگلی سے اپنی شہوت پوری کرنے کا حکم

میں نے یہ مسئلہ پوچھنا تھا کہ masturbation جو کرتے ھیں اور خود سے اپنی خواھش پوری کر لیتی ھیں یا کر لیتے ھیں اور release ھو جاتی ھیں
کیا اس کے بعد بھی غسل کرنا ھوتا ھے؟ کیونکہ یہ تو ایکself desire ھے جس سے اسلام بھی منع نہیں کرتا کہ زنا کرنے سے بہتر ھے کہ یہ کر لیں۔برائے مہربانی اس کا تفصیلی جواب دے دیں کہ کیا terms&conditionsھیں۔

سائلہ۔

Category: Miscellaneous (احكام شتى) - Asked By: سائلہ - Date: Nov 30, 2019



Answer:


لالجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
ل Masturbation
یعنی ھاتھ یا انگلی سے اپنی خواھش پوری کر لینا ،گناہ کبیرہ ھے اور شرعا ناجائز ھے۔البتہ اس کا گناہ حقیقی زنا سے کم درجے کا ھے۔چاروں ائمہ کا اس پر اتفاق ھے کہ محض لذت کے لئے ھاتھ یا انگلی سے اپنی شھوت پوری کرنا ناجائز ھے۔البتہ کسی پر اتنا شدید غلبہ شھوت تھا کہ۔اسے غالب گمان تھا کہ وہ زنا کر بیٹھے گا اور اس نے زنا سے بچنے کے لئے اپنے ھاتھ یا انگلی سے شھوت پوری کر لی تو یہ زنا سے کم درجے کا گناہ کیا۔جو ۔رد یا عورت غیر شادی شدہ ھوں انکو چاھئے کہ کثرت سے روزے رکھیں اور اپنے خیالات اور نظروں کو پاک صاف رکھیں تاکہ مشت زنی اور انگشت زنی کے گناہ سے بچ سکیں۔
اگر کسی نے ھاتھ یا انگی سے شھوت پوری کی اور انزال ھو گیا تو غسل فرض ھو گا۔

قرآن کریم میں ارشاد ھے

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ
ترجمہ:
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں یا (باندیوں سے) جو ان کی ملکیت میں ھوں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انھیں ملامت نہیں۔
ابن عابدين ,الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ,2/399]

مَطْلَبٌ فِي حُكْمِ الِاسْتِمْنَاءِ بِالْكَفِّ (قَوْلُهُ: وَكَذَا الِاسْتِمْنَاءُ بِالْكَفِّ) أَيْ فِي كَوْنِهِ لَا يُفْسِدُ لَكِنَّ هَذَا إذَا لَمْ يُنْزِلْ أَمَّا إذَا أَنْزَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ كَمَا سَيُصَرِّحُ بِهِ وَهُوَ الْمُخْتَارُ كَمَا يَأْتِي لَكِنَّ الْمُتَبَادَرَ مِنْ كَلَامِهِ الْإِنْزَالُ بِقَرِينَةِ مَا بَعْدَهُ فَيَكُونُ عَلَى خِلَافِ الْمُخْتَارِ (قَوْلُهُ: وَلَوْ خَافَ الزِّنَى إلَخْ) الظَّاهِرُ أَنَّهُ غَيْرُ قَيْدٍ بَلْ لَوْ تَعَيَّنَ الْخَلَاصُ مِنْ الزِّنَى بِهِ وَجَبَ؛ لِأَنَّهُ أَخَفُّ وَعِبَارَةُ الْفَتْحِ فَإِنْ غَلَبَتْهُ الشَّهْوَةُ فَفَعَلَ إرَادَةَ تَسْكِينِهَا بِهِ فَالرَّجَاءُ أَنْ لَا يُعَاقَبَ اهـ زَادَ فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ وَعَنْ أَحْمَدَ وَالشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ التَّرَخُّصُ فِيهِ وَفِي الْجَدِيدِ يَحْرُمُ وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَمْنِيَ بِيَدِ زَوْجَتِهِ وَخَادِمَتِهِ اهـ وَسَيَذْكُرُ الشَّارِحُ فِي الْحُدُودِ عَنْ الْجَوْهَرَةِ أَنَّهُ يُكْرَهُ وَلَعَلَّ الْمُرَادَ بِهِ كَرَاهَةُ التَّنْزِيهِ فَلَا يُنَافِي قَوْلَ الْمِعْرَاجِ يَجُوزُ تَأَمَّلْ وَفِي السِّرَاجِ إنْ أَرَادَ بِذَلِكَ تَسْكِينَ الشَّهْوَةِ الْمُفْرِطَةِ الشَّاغِلَةِ لِلْقَلْبِ وَكَانَ عَزَبًا لَا زَوْجَةَ لَهُ وَلَا أَمَةَ أَوْ كَانَ إلَّا أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْوُصُولِ إلَيْهَا لِعُذْرٍ قَالَ أَبُو اللَّيْثِ أَرْجُو أَنْ لَا وَبَالَ عَلَيْهِ وَأَمَّا إذَا فَعَلَهُ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ فَهُوَ آثِمٌ اهـ.
بَقِيَ هُنَا شَيْءٌ وَهُوَ أَنَّ عِلَّةَ الْإِثْمِ هَلْ هِيَ كَوْنُ ذَلِكَ اسْتِمْتَاعًا بِالْجُزْءِ كَمَا يُفِيدُهُ الْحَدِيثُ وَتَقْيِيدُهُمْ كَوْنَهُ بِالْكَفِّ وَيَلْحَقُ بِهِ مَا لَوْ أَدْخَلَ ذَكَرَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ مَثَلًا حَتَّى أَمْنَى، أَمْ هِيَ سَفْحُ الْمَاءِ وَتَهْيِيجُ الشَّهْوَةِ فِي غَيْرِ مَحَلِّهَا بِغَيْرِ عُذْرٍ كَمَا يُفِيدُهُ قَوْلُهُ وَأَمَّا إذَا فَعَلَهُ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ إلَخْ؟ لَمْ أَرَ مَنْ صَرَّحَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَالظَّاهِرُ الْأَخِيرُ؛ لِأَنَّ فِعْلَهُ بِيَدِ زَوْجَتِهِ وَنَحْوِهَا فِيهِ سَفْحُ الْمَاءِ لَكِنْ بِالِاسْتِمْتَاعِ بِجُزْءٍ مُبَاحٍ كَمَا لَوْ أَنْزَلَ بِتَفْخِيذٍ أَوْ تَبْطِينٍ بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ بِكَفِّهِ وَنَحْوِهِ وَعَلَى هَذَا فَلَوْ أَدْخَلَ ذَكَرَهُ فِي حَائِطٍ أَوْ نَحْوِهِ حَتَّى أَمْنَى أَوْ اسْتَمْنَى بِكَفِّهِ بِحَائِلٍ يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ يَأْثَمُ أَيْضًا وَيَدُلُّ أَيْضًا عَلَى مَا قُلْنَا مَا فِي الزَّيْلَعِيِّ حَيْثُ اسْتَدَلَّ عَلَى عَدَمِ حِلِّهِ بِالْكَفِّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ} [المؤمنون: 5] الْآيَةُ وَقَالَ فَلَمْ يُبَحْ الِاسْتِمْتَاعُ إلَّا بِهِمَا أَيْ بِالزَّوْجَةِ وَالْأَمَةِ اهـ فَأَفَادَ عَدَمَ حِلِّ الِاسْتِمْتَاعِ أَيْ قَضَاءِ الشَّهْوَةِ بِغَيْرِهِمَا هَذَا مَا ظَهَرَ لِي وَاَللَّهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ.

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح  
مفتی زکریا   
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
30 نومبر 2019



Share:

Related Question:

Categeories