25-Apr-2019 /19- Sha‘bān-1440

Question # 7272


کھڑے ہو کر نہانے کا حکم

ایک اخبار کی اچھی باتوں میں لکھا ہے کہ کھڑے ہوکر نہانا اورنہانے والی جگہ پر پیشاب کرنا گناہ ہے کیا یہ بات ٹھیک ہے۔

Category: Purity and Impurity (احكام الطهارة) - Asked By: سارہ منیر - Date: Feb 20, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب
کھڑے ہو کر نہانا جائز ہے جبکہ پردے کا انتظام ہو.البتہ بیٹھ کے نہانا زیادہ افضل ہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے.
خاص جس جگہ پیشاب کیا جائے،بعینہ اسی جگہ پہ کھڑے ہو کر نہانا مکروہ ہے کیونکہ اس سے وساوس پیدا ھوتے ھیں.اس جگہ سے ہٹ کر نہانے میں کوئی مسئلہ نہین۔

وفی صحیح البخاري، باب من اغتسل عریانا، رقم: ۲۷۹)

عن أبي ہریرۃ -رضي اللہ عنہ- عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: بینا أیوب یغتسل عریانا، فخر علیہ جراد من ذہب، فجعل أیوب یحتثی في ثوبہ، فناداہ ربہ یا أیوب أ لم أکن أغنیتک عما تری؟ قال: بلی وعزتک ولکن لاغنی بي عن برکتک۔

و فی فتح الباري، کتاب الغسل، باب من اغتسل عریانا الخ، ۱/ ۵۰۷، ۵۰۸، رقم: ۲۷۸،
قال بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ عن النبي ﷺ: اللہ أحق أن یستحیي منہ من الناس۔ إن ظاہر حدیث بہز یدل علی أن التعری في الخلوۃ غیر جائز مطلقا، لکن استدل المصنف علی جوازہ في الغسل بقصۃ موسی وأیوب علیہما السلام۔

و فی الہندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني، الفصل الثاني في سنن الغسل،

ویستحب أن یغتسل في موضع لا یراہ فیہ أحد۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح
مفتی زکریا
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
19 فروری 2019
13 جمادی الثانی 1440



Share:

Related Question:

Categeories