21-May-2022 /19- Shawwāl-1443

Question # 8029


کیا بہن بیوی کے علاج میں خرچ کی گئی رقم وراثت سے منہا ہو گی ۔؟

درجہ ذیل حق وراثت کے مسائل میں شرعی فتاوی صادر فرماے۔ 

مسئلہ۱: کیا بھائ بہن کے علاج معالجےپہ خرچ کرینگے تو وہ رقم جائیداد میں حق وراثت سے منہا ھوسکتی ہے؟

مسئلہ ۲: کیا بہن فوت ھو گئی تو اس کے لیے ھمارے ھاں میت کو دفنانے وقت اسقاط کے نام سے قبر پر غریبوں میں پیسے بانٹتے ھیں اور بعد میں مال مویشی ذبح کر کے خیرات کے نام سےکھانا کھلاتے ھیں کیا یہ اسقاط خیرات کے نام پر خرچ شدہ رقم بعد میں بہن کے جائیداد میں حق وراثت میں سے منہا ھو سکتی ھے؟

مسئلہ۳: کیا بہن کے وفات کے بعد بہن کے بیٹے اپنی ماں کا حج کریں اور ماموں اس میں امداد کے طور پر کچھ رقم دے دیں وہ جائیداد میں سے بہن کی حق وراثت میں سے منہا ھو سکتی ھے؟

سمیع اللہ

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: سمیع اللہ - Date: Jul 16, 2020



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب
حامدا ومصلیا
1۔بھائی نے بہن کی بیماری پر جو خرچ کیا ،اگر وہ بطور قرض کے تھا اور یہ نیت تھی کہ بہن کے تندرست ھونے پر ان سے واپس لوں گا تو یہ رقم ترکہ سے منھا ھو گی۔اور قرض کی نیت نہ تھی محض ھمدردی کیا تو یہ صلہ رحمی کے طور پر ھے اور اس کا اجر اللہ کے ھاں ملے گا ۔اس صورت میں ترکہ سے کٹوتی نہ ھو گی ۔

2۔حیلہ اسقاط جس شکل و صورت کے ساتھ اس زمانے میں کیا جا رھا ھے محض ایک قبیح اور قابل ترک بدعت ھے۔لوگوں میں اس سے نماز روزہ چھوڑنے پر جرات بڑھتی ھے جو کہ بہت خطرناک رجحان ھے۔نیز تملیک کے شرعی اصول کو مد نظر رکھے بغیر چند روپوں کے ھیر پھیر کو سب نماز روزہ کی معافی سمجھتے ھیں ۔
ایسی رقم بہن کے حق وراثت سے منھا نہ ھو گی۔البتہ اگر بہن نے اپنے قضاء نمازوں اور روزے کے فدیہ کی وصیت کی تھی تو اس وصیت کو ایک تہائی مال سے پورا کیا جا سکتا ھے ۔مگر اس کے لئے مروجہ حیلہ اسقاط کرنا درست نہیں۔
3۔اگر میت نے حج بدل کی وصیت کی تھی تو میت کے مال میں سے ایک تہائی رقم حج کے لئے لی جا سکتی ھے۔اس سے زائد نہیں اگر وصیت نہیں کی تھی اور ورثاء باھمی مرضی سے میت کی طرف سے حج بدل کرنا چاھئیں تو اس کا طریق یہ ھے کہ۔پہلے ترکہ تقسیم کیا جائے اور ھر وارث کو اس کا حصہ دے دیا جائے ۔پھر جو بالغ وارث اپنی جتنی رقم اپنی مرضی سے حج بدل کے لئے دینا چاھئے ،دے سکتا ھے ۔ اگر ورثاء میں کوئئ نابالغ ھو تو اس سے رقم نہین لی جائے گی نہ ھی اس کا اپنی مرضی سے دینا درست ھے ۔
اس طریق پر عمل کے بعد اگر حج بدل کی رقم کم ھو اور ماموں امداد کے طور پر دینا چاھئیں تو یہ رقم دینا ان کا احسان ھے ۔اس کی کٹوتی ترکہ سے نہیں کر سکتے۔

و فی المستدرک للحاکم / کتاب البیوع جلد 2 ص61 رقم: 2324

عن سمرۃ بن جندب رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إذا کان الہبۃ لذي رحم محرم لم یرجع فیہا۔

و فی المعجم الکبیر، للطبرانی ص: 211،رقم: 1344
عن أبي أمامۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إن الصدقۃ علی ذي قرابۃ یُضعَّف أجرہا مرتین۔

وفی الفتاویٰ التاتارخانیۃ مع التحقیق و التخریج، کتاب الہبۃ / الفصل الخامس في الرجوع في الہبۃ جلد 14 ص449

ولا یرجع في الہبۃ من المحارم بالقرابۃ کالآباء، والأمہات … وکذٰلک الإخوۃ والأخوات … والإخوۃ والأخوات من الرضاع۔

و فی السراجي في المیراث ص: 4،3
تتعلق بترکۃ المیت حقوق أربعۃ: الأول: یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ … ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقي من مالہ، ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقي بعد الدین، ثم یقسم الباقي بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ والإجماع۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح
مفتی زکریا دامت برکاتہم
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
13 جولائی 2020
21 ذی القعدہ 1441



Share:

Related Question:

Categeories