21-May-2022 /19- Shawwāl-1443

Question # 8028


مفتی صاحب اس حوالے سے جواب دیجئے۔
ایک صاحب نے پوچھا ھے کہ
مسلمان کہتے ھیں کہ اللہ تعالی کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں گرتا پھر اتنے لوگ کیوں مر رھے ھیں اور بیمار ھو رھے ھیں۔تو اللہ انکا نقصان کیوں کر رھا ھے ؟
حضرت مفتی صاحب، جس انداز میں اس صاحب نے بات کہی ہے اس میں تو گستاخی کا پہلو نظر آ رہا ہے.
اس جیسے لوگوں سے میری بات ہوئی ہے ان کو تکلیف یہ ہوتی ہے کہ اگر سب اللہ عزوجل کے حکم سے ہے تو غریب کو کیوں اللہ تعالیٰ آزما رہا ہے ان کے بچے کیوں مر رہے بھوک سے اور جنگ وغیرہ کی وجہ سے.
ان کو تکلیف یہ ہے کہ جب سب اللہ عزوجل کے حکم سے ہو رہا ہے تو ظالم کیوں عیش کر رہا ہے اور مظلوم کیوں پس رہا ہے.

شاید ہمارے ان بھائی سے بھی کسی نے ایسے سوال پوچھ لیے ہیں.
ملک سالار،محمد

Category: Faith and Beliefs (احكام الايمان والعقاىْد) - Asked By: ملک سالار محمد - Date: Jul 16, 2020



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب
حامدا ومصلیا
بے شک اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ھلتا ۔اور دنیا میں جو بھی آفات یا مصائب کی وجہ سے لوگوں کا مرنا ھے سو فیصد اللہ کے حکم سے ھے ۔
سادہ سا جواب ھے کہ جب اللہ تمام کائنات کا خالق ھے تو وہی جانتا ھے کہ اس نے کس مخلوق کو کس حال سے آزمانا ھے اور کب اپنے پاس بلانا ھے اور بے شک اپنی مخلوق کے بارے میں اللہ جل شانہ جو بھی فیصلہ کریں وہ انکا فضل ھے۔اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان خود اپنے اوپر ظلم کرتا ھے ۔اللہ جل شانہ فرماتے ھیں کہ انسان پر جو مصیبت آتی ھے وہ اسکے ھاتھوں کی کمائی ھے ۔پھر اللہ سے کیسا شکوہ۔
۔ایسے سوالات عام طور پر وہ لوگ اٹھاتے ھیں جو اللہ کے وجود کے ھی انکاری ھیں ۔اس لئے ایسے لوگوں کو جواب سے پہلے اس بات کو طے کرانا چاھئے کہ کیا زندگی گزارنے کے لئے کوئی اصول درکار ھے یا نہیں۔
اگر وہ جواب دیں نہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ دنیا میں کوئی ایک ادارہ کوئی ایک ملک دکھا دیں جس کو چلانے کے کچھ اصول و ضوابط نہ ھوں ۔حقیقت یہ ھے کہ چھوٹے سے ادارے کا بھی کوئی اصول و ضابطہ ھوتا ھے ۔
اب اگلا سوال یہ ھے کہ کیا کائنات کا بھی ضابطہ ھے؟
ھم کہتے ھیں کہ ،ضابطہ ھے ۔اگر وہ یہ کہیں کہ ضابطہ نہین تو اس کو تو سائنس بھی تسلیم کرتی ھے کہ کائنات انتہائی ضابطہ اور قانون سے چل رھی ھے ۔اب اگلا سوال یہ ھے کہ کائنات کا ضابطہ اور قانون بنانے کا حق کسے ھیں ۔ھم کہتے ھیں کہ اس ذات کو ھے جو سب کا خالق ھے ۔اگر وہ یہ کہیں کہ انسان کو ھے تو جواب یہ ھے انسان کے قوانین اور سوچ ھی ناقص ھے ۔دلیل یہ ھے کہ دو ملکوں کے قوانین آپس میں نہیں ملتے ۔دو انسانوں کی سوچ نپیں آپس میں ملتی ۔ یہ دلیل ھے کہ انسان کی سوچ ناقص ھے ۔اگر وہ یہ کہیں کہ انکو خالق کا وجود تسلیم نہیں تو ھم کہتے ھیں کہ ایک عام سا پرزہ بننے میں بنانے والا کا محتاج ھے ۔اتنی بڑی کائنات کیسے خود بخود بن گئی ۔سائنس بھی کہتے ھے کہ ھر چیز کے پیچھے کوئی سبب ھے ۔اور جہان سائنس کو سبب سمجھ نہیں آتا وھاں کہ دیتی ھے کہ meta physical ھے ۔اس لئے ھم کہتے ھیں کہ اس کائنات کا مالک،خالق،رازق و مدبر حقیقی تن تنہا ایک اللہ کی ذات ھے ۔اس کا علم کامل،مکمل ھر نقص سے پاک۔وہ اپنی مخلوق کو بہتر سمجھتا ھے کہ اس کے لئے کب کیا بہتر ھے اور اسی ذات نے بتایا کہ میں ضرور بضرور تمہیں آزماوں گا۔تنگی سے فراخی سے بیماری سے صحت سے ۔اللہ جل شانہ کسی کو دے کر آزماتا ھے کسی سے لے کر آزماتا ھے کسی کو بیمار کر کے آزماتا ھے کسی کو صحت کی نعمت دے کر ۔کسی کو مال دے کر کسی سے مال لے کر ۔کسی کو اولاد دے کر کسی سے لے کر۔وہ بادشاھوں کا بادشاہ ھے ۔اس کو سب پتا ھے کس کو کس وقت کیا کرنا ھے ۔اسی ذات نے مخلوق پر موت کو مسلط کیا کہ اس انسان کو بتا چلے کہ کہ اس کی اوقات کیا ھے ۔موت کیوں آتی ھے اس کا جواب سائنس کے پاس نہ تھا نہ ھے نہ ھو گا۔کیوں دادا لے ھوتے جوان چلا جاتا ھے ۔کیوں باپ کے ھوتے بیٹا چلا جاتا ھے ۔بھلا چنگا انسان بیٹھے بٹھائے کیوں چلا جاتا ھے ۔للہ الواحد القہار ۔ایک اللہ جو غالب ھے ہر شے پر ۔میرا رب بولتا ھے ان نشانیوں سے ۔
قال اللہ تبارک و تعالی ۔

قُلۡ أَرَءَیۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَیۡكُمُ ٱلَّیۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ یَوۡمِ ٱلۡقِیَـٰمَةِ مَنۡ إِلَـٰهٌ غَیۡرُ ٱللَّهِ یَأۡتِیكُم بِضِیَاۤءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ

و قال اللہ تبارک و تعالی سورہ ملک

تَبَـٰرَكَ ٱلَّذِی بِیَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ قَدِیرٌٱلَّذِی خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَیَوٰةَ لِیَبۡلُوَكُمۡ أَیُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلࣰاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِیزُ ٱلۡغَفُورُٱلَّذِی خَلَقَ سَبۡعَ سَمَـٰوَ ٰ⁠تࣲ طِبَاقࣰاۖ مَّا تَرَىٰ فِی خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ مِن تَفَـٰوُتࣲۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورࣲثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَیۡنِ یَنقَلِبۡ إِلَیۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئࣰا وَهُوَ حَسِیرࣱ

و قال اللہ تبارک و تعالی
وَلَئن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ لَیَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ یُؤۡفَكُونَ

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
26 جون 2020
4 ذوالقعدہ 1441



Share:

Related Question:

Categeories