26-Sep-2022 /29- Ṣafar-1444

Question # 8018


والد سے ادھار لی گئی رقم کا حکم

ا حضرت جی ایک مسئلہ یہ ھے کہ
ایک خاتون نے اپنے والد سے دو لاکھ ادھار لیا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ جب مجھے آسانی ہو گی تب میں یہ رقم واپس کروں گی ان کے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر کچھ عرصے بعد والد کا انتقال ہو گیا
پھر اس خاتون نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں نے جو اپنے والد کو ادھار کی رقم واپس کرنی تھی نہیں کر سکی اور ابھی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ آپکو وہ رقم ادا کر دوں تو والدہ نے کہا کہ اگر میرے زندگی میں بھی ادھار کی ادائیگی نہ کر سکو تو میری زندگی کے بعد وہ رقم صدقہ کر دیں
اب اسن خاتون کی والدہ بھی انتقال فرما گئیں ہیں اب وہ خاتون یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ میں وہ ادھار کی رقم بہن بھائیوں میں تقسیم کروں یا والدہ کی وصیت کے مطابق اسکو صدقہ کر دوں۔
تنقیح مسئلہ ۔والد صاحب کی وفات کے وقت کون کون زندہ تھا اور والدہ کی وفات کے وقت بھی؟

جواب::والد صاحب کے ورثاء میں زوجہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاںاور والدہ کے ورثاء میں دو بیٹے دو بیٹیاں
مسز عمران

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: مسز سمیہ عمران - Date: Dec 02, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
جو رقم دو لاکھ والد صاحب سے ادھار لی تھی ،وہ انکی وفات کے بعد ترکہ کا حصہ تھی۔اس میں تمام ورثاء کو شریعت کے مطابق حصہ ملے گا جو والد کی وفات کے وقت زندہ تھے۔اس دو لاکھ میں ھر بیٹی کا حصہ 29166.7روپے،ہر بیٹے کا حصہ 58333.3روپے ھے جبکہ والدہ کا حصہ اس میں آٹھوان یعنی 25ھزار تھا۔والدہ کی وفات کے بعد اس رقم کا ایک تہائی یعنی 8333.33روپے صدقہ کیا جائے گا۔جبکہ بقیہ رقم والدہ کی وفات کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔چنانچہ والدہ کے پچیس ہزار میں سے انکی وصیت کے مطابق ایک تہائی رقم صدقہ کی جائے گی اور بقیہ رقم میں سے ہر بیٹی کو2777.8روپے اور ہر بیٹے کو 5555.6روپے ملیں گے۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح  
مفتی زکریا   
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
4 ربیع الثانی 1441
2 دسمبر 2019



Share:

Related Question:

Categeories