25-Apr-2019 /19- Sha‘bān-1440

Question # 7280


1۔ آپ سے ایک سوال پوچھنا چاھتی ھوں۔آج حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یوم ولادت ھے ۔اس حوالے سے راھنمائی فرما دیں کہ کیا وہ کعبہ میں پیدا ھوئے تھے ۔
2۔کیا انکو مولا کہنا جائز ھے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں علی مولا کہا گیا۔اگر جائز ھے تو پھر کیا کلمہ میں بھی اضافہ کرنا جائز ھے ۔

Category: History (تاریخ) - Asked By: منزہ - Date: Apr 13, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
1۔مختصر جواب یہ ھے کہ تمام ذخیرہ احادیث،و کتب مناقب و سیرت میں کوئی روایت ایسی موجود نہیں جس سے پتہ چلتا ھو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت بیت اللہ میں ھوئی۔صرف امام حاکم کا قول ھے جس کو تمام محدثین نے جھٹلایا ھے ۔
خانہ کعبہ میں ولادت صرف ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی ھوئی جن کا اسم گرامی ،حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ تھا۔انکی والدہ کو طواف کے دوران درد زہ شروع ھو گیا جس پر خواتین انکو بیت اللہ کے اندر لے گئیں۔حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے مولود کعبہ ھونے کا تذکرہ بے شمار کتب احادیث میں موجود ھے ۔

2۔مختصر جواب یہ ھے حدیث مبارکہ ”من کنت مولاہ فعليٌّ مولاہ“ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جسے ترمذی، احمد، نسائی اور ضیاء مقدسی نے اپنی ”مختارہ“ میں نقل کیا ہے، حافظ ابن حجر رح فرماتے ہیں:
"یہ حدیث کثیر الطرق ہے جسے ابن عقدہ نے مستقل ایک کتاب میں جمع کیا ہے، اس کے بعض طرق صحیح ، بعض حسن اور بعض ضعیف ہیں"۔
مسند احمد میں اس حدیث کے رجال ہیثمی کے نزدیک ثقہ ہیں، علامہ سیوطی نے اس حدیث کو متواتر قرار دیا ہے۔البتہ محدثین نے اس حدیث کے معنی میں کلام کیا ھے ۔
حدیث مبارکہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا جو کہا گیا ھے ،وہ محبت کے معنی کے لحاظ سے کہا گیا ھے ۔یعنی جو مجھ سے محبت رکھے ،وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت رکھے ۔
بعض روایات میں غدیر خم کا ذکر ھے جہاں آقا ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ناراضگی رکھنے سے منع فرمانے کے سیاق و سباق میں ارشاد فرمایا۔
نیز مولا کا لفظ عربی زبان میں سردار،مدد کرنے والا،غلام کو آزاد کرنے والا،یا آزاد کردہ غلام کے لئے بھی بولا گیا ھے ،جیسا کہ کئی روایات میں یہ مختلف معانی ملتے ھیں۔
آج کل کے زمانے میں ”علی مولا“ یا ”مولی علی“ کہنا مناسب نہیں کیونکہ عرف میں ”مولیٰ“ کا طلاق ”آقا“ پر ہوتا ہے اور حدیث بایں معنی وارد نہیں ہے اور اگر شیعوں کے عقیدہ حلول کے مطابق علی مولیٰ کہا جائے تو یہ شرکیہ کلمہ ہے جس سے احتراز ضروری ہے۔
باقی یہ ضروری نہیں کہ ھر وہ چیز جو جائز ھو وہ کلمہ میں بھی مذکور ھو۔

تفصیلی جواب
1۔عوام میں یہ مشھور ھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ھوئی۔یہ بات روایتا و درایتا(عقلا) درست نہین ۔کتب احادیث میں اس قول کو سب سے پہلے امام حاکم نے مستدرک میں نقل کیا اور اس پر اجماع نقل کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیت اللہ میں پیدا ھوئے ھیں۔

و فی المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم الحدیث 6044

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ نَسَبَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَزَادَ فِيهِ، «وَأُمُّهُ فَاخِتَةُ بِنْتُ زُهَيْرِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَكَانَتْ وَلَدَتْ حَكِيمًا فِي الْكَعْبَةِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ، وَهِيَ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، فَوَلَدَتْ فِيهَا فَحُمِلَتْ فِي نِطَعٍ، وَغُسِلَ مَا كَانَ تَحْتَهَا مِنَ الثِّيَابِ عِنْدَ حَوْضِ زَمْزَمَ، وَلَمْ يُولَدْ قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ فِي الْكَعْبَةِ أَحَدٌ» قَالَ الْحَاكِمُ: «وَهَمُّ مُصْعَبٍ فِي الْحَرْفِ الْأَخِيرِ، فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَخْبَارِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ وَلَدَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ

معصب بن عبد الله کہتے ھیں۔ حکیم بن حزام رضی الله عنه کی والدہ فاختہ بنت زھیر بن اسد بن عبد العزی، نے حکیم بن حزام رضی الله عنه کو کعبہ میں جنا جبکہ وہ حاملہ تھیں۔ نہ ان سے پہلے کوئی کعبہ میں پیدا ہوا ، نہ ان کے بعد کوئی کعبہ میں پیدا ہوا۔

اسکے بعد امام حاکم نے کہا : کہ معصب بن عبد اللہ کو وھم ھوا آخری جملے پر۔ کیونکہ یہ بات تواتر خبروں سے ثابت ھے کہ فاطمہ بنت اسد نے علی رضی الله عنه کو کعبہ میں جنا ھے۔
حقیقت یہ ھے کہ امام۔حاکم رح سے یہاں تسامح ھو گیا ھے ۔ مصعب بن عبد اللہ ،جن کی وفات 236 ھجری میں ھوئی، انساب میں خاص طور پر قریش کے نسب کے علامہ تھے ۔انہوں نے صراحتا نفی کی ھے کہ یہ واقعہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں پیش آیا۔
امام حاکم رح نے جو لکھا کہ مصعب کو وھم ھوا،انکے اس قول کو کسی بھی محدث نے نہیں لیا بلکہ انکے اس قول کو ضعیف کہ کر رد کردیا۔امام حاکم رح کی تاریخ وفات 405ھجری ھے۔عقلا بھی یہ بعید ھے کہ اتنا بڑا واقعہ پیش آئے اور ان سے پہلے آنے والے بڑے بڑے محدثین ،جن میں صحاح ستہ کے مولفین بھی ھیں،کوئی ایک بھی اس واقعہ کو نقل مت کرے۔اس لئے امام حاکم کا اس پر تواتر کا قول ،انکا تسامح ھے جس کو بعد میں آنے والے بے شمار محدثین نے رد کر دیا۔چنانچہ امام نووی رح جو مسلم شریف کے شارح ھیں،لکھتے ھین

قالوا ولد حكيم في جوف الكعبة ولا يعرف احد ولد فيه غيره واما ماروي ان علي بن ابي طالب رضي الله عنه ولد فيها فضعيف عند العلماء۔(تہذیب الاسماء واللغات للنووی:ج1 ص149)
’’علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے، کسی اور کا کعبہ میں پیدا ہونا معلوم نہیں ہوا۔جہاں تک سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق کعبہ میں پیدا ہونے کی بات ہے تو وہ علمائے کرام کے نزدیک ضعیف ہے‘‘
ابن ملقن رح جو شارح بخاری ھیں ،لکھتے ھیں۔
فقال "حَكِيم بن حزام رضي الله عنه ولد فِي جَوف الْكَعْبَة ، وَلَا يعرف أحد ولد فِيهَا غَيره ، وَأما مَا رُوِيَ عَن عَلّي رَضي اللهُ عَنهُ أَنه ولد فِيهَا فضعيف ،
"البدر المنير" (6/489) .

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے، کسی اور کا کعبہ میں پیدا ہونا معلوم نہیں ہوا۔جہاں تک سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق کعبہ میں پیدا ہونے کی روایت کی گئی ہے تو وہ روایت ضعیف ہے۔
نیز لکھتے ھیں

حديث ابن عباس، قال:
لعلي أربع خصال (1): هو أول من صلى ... الحديث.
قال الحاكم: وقد تواترت الأخبار بأن علياً ولد في جوف الكعبة
قلت: فيه زكريا (بن يحيى الوقار، وهو متهم)
ابن الملقن، مختصر تلخيص الذهبي، ج3 ص1309۔

مولود کعبہ کون ھین؟
بیت اللہ میں ولادت کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نہیں،بلکہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا ھے ۔
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور اور جلیل القدر صحابی ھیں۔ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا ذاد ہیں۔فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ھوئے ،120 سال عمر پائی۔
ان کی والدہ زمانہ جاھلیت میں ،خواتین کے ساتھ طواف کر رھیں تھیں۔دوران طواف درد زہ شروع ھو گیا تو خواتین انکو بیت اللہ کے اندر لے گئیں ،جہاں انکی ولادت ھوئی ۔انکے مولود کعبہ ھونے پر تمام محدثین متفق ھیں۔
امام حافظ ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری رحمه الله المتوفی 261ھ فرماتے ھیں:
"ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة، وعاش مائة وعشرين سنة"
حکیم بن حزام رضی الله عنه کعبةالله میں پیدا ھوئے۔ اور آپ ایک سو بیس سال زندہ رھے۔
[صحیح مسلم ، کتاب البیوع، باب الصدق فی البیع البیان، رقم : 1532]

حوالہ جات ۔

صحیح مسلم ، کتاب البیوع، باب الصدق فی البیع البیان، رقم : 1532

"ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة، وعاش مائة وعشرين سنة"

و فی المستدرك على الصحيحين للحاكم، 549/3

سَمِعْتُ أَبَا الْفَضْلِ الْحَسَنَ بْنَ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ غَنَّامٍ الْعَامِرِيَّ، يَقُولُ: «وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، دَخَلَتْ أُمُّهُ الْكَعْبَةَ فَمَخَضَتْ فِيهَا فَوَلَدَتْ فِي الْبَيْتِ

وفی تہذیب الاسماء اللغات للنووی 166/1

 " وُلِد حَكِيم بن حزام رضي الله عنه ولد فِي جَوف الْكَعْبَة ، وَلَا يعرف أحد ولد فِيهَا غَيره ، وَأما مَا رُوِيَ عَن عَلّي رَضي اللهُ عَنهُ أَنه ولد فِيهَا فضعيف 

قال امام ابو جعفر محمد بن حبیب البغدادی رحمه الله
فی "الندماء من قريش"، ص366

"حكيم بن حزام ابن خويلد بن أسد. / وحكيم هذا ولد في الكعبة"

وقال امام ابو الولید محمد بن عبد الله بن احمد المکي المتوفی 250ھ فی "أخبار مكه وما جاء فيها من الآثار، باب ما جآء في الفتح الكعبة،" ج1، ص174
:
"فولدت حکیماً فی الکعبة".

و قال الشیخ ابن عبد البر , فی "الاستيعاب في معرفة الأصحاب" ,1/362 رقم 535

"حكيم بن حزام بن خويلد بن أسد بن عبد العزى بن قصي القرشي الأسدي،
يكنى أبا خالد، هو ابن أخي خديجة بنت خويلد زوج النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ولد في الكعبة، وذلك أن أمه دخلت الكعبة في نسوة من قريش، وهي حامل فضربها المخاض، فأتيت بنطع فولدت حكيم بن حزام عليه"

و قال الشیخ المحدث العلامہ الذهبي فی تاريخ الإسلام ج2 ص484
حكيم بن حزام بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصي بن كلاب القرشي الأسدي أَبُو خالد، [الوفاة: 51 - 60 ه]
وعمته خديجة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
كان يَوْم الفيل مراهقًا، وَهُوَ والد هشام، لَهُ صُحْبة ورواية، وشرف في قومه وحشمة.
رَوَى عَنْهُ: ابنه حزام، وسَعِيد بن المسيب، وعَبْد اللَّهِ بن الحارث بن نوفل، وعُرْوة بن الزبير، وموسى بن طلحة، ويوسف بن ماهك، وغيرهم.
حضر بدرًا مشركًا، وأسلم عام الفتح، وَكَانَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي يَمِينِهِ قَالَ: لَا والذي نجاني يَوْم بدر من القتل. وله منقبة؛ وَهُوَ أَنَّهُ وُلد في جوف الكعبة. وأسلم وله ستون سَنَة أَوْ أكثر، وَكَانَ من المؤلفة قلَوْبهم. أعطاه النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْم حُنين مائة من الإبل؛ قَالَه ابن إِسْحَاق.

وقال أبو نعيم الأصبهاني، فی معرفة الصحابة لأبي نعيم، ج 2 ص701
حَكِيمُ بْنُ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابٍ أَبُو خَالِدٍ، أُمُّهُ صَفِيَّةُ، وَقِيلَ: فَاخِتَةُ بِنْتُ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَسَدٍ، وَأُمُّهَا سَلْمَى بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ عَبْدِ الدَّارِ، مِنْ مَسْلِمَةِ الْفَتْحِ، مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ، أَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِائَةَ بَعِيرٍ ثُمَّ حَسُنَ إِسْلَامُهُ، وُلِدَ فِي الْكَعْبَةَ، عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً، سِتِّينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَسِتِّينَ فِي الْإِسْلَامِ، تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ. وَقِيلَ: ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، لَمْ يَقْبَلْ شَيْئًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحَدٍ، أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ فِي الْإِسْلَامِ، انْفَلَتَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنَ الْقَتْلِ، فَكَانَ إِذَا اسْتَغَلْظَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: لَا وَالَّذِي نَجَّانِي يَوْمَ بَدْرٍ

وقال ابن الاثیر فی اسد الغابہ،ج 2 ص 58 رقم1234
حكيم بْن حزام بْن خويلد بْن أسد بن عبد العزى بْن قصي القرشي الأسدي، وأمه وأم أخويه خَالِد وهشام: صفية، وقيل: فاختة بنت زهير بْن الحارث بْن أسد بْن عبد العزى، وحكيم ابن أخي خديجة بنت خويلد، وابن عم الزبير بْن العوام.
ولد في الكعبة، وذلك أن أمه دخلت الكعبة في نسوة من قريش وهي حامل، فأخذها الطلق، فولدت حكيمًا

و فی مختصر تلخيص الذهبي، ج3 ص1309 رقم 533
حديث ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال:
لعلي رضی اللہ عنہ أربع خصال : هو أول من صلى ... الحديث.
قال الحاكم: وقد تواترت الأخبار بأن علياً ولد في جوف الكعبة
قلت: فيه زكريا (بن يحيى الوقار، وهو متهم)

و قال الحافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر البصری ،ابن کثیر ،البداية والنهاية: ج8، ص74

"حکیم بن حزام ولدته امه فی جوف الکعبة".

و قال الامام ابن حجر العسقلانی ،الاصابة في تمييز الصحابة: ج2، ص98،

"وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبة".

وقال العلامہ العینی الحنفی ،
فی عمدة القاری شرح صحیح البخاری: ج13، ص142
"حکیم بن حزام ولد فی بطن الکعبة

وفی تدریب الراوی ج2 ص359
قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: كَانَ مَوْلِدُ حَكِيمٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَة 

وفیہ ایضا 358/2
وُلِد حكيم في جوف الكعبة

وفی ریح النسرین للسیوطی ص49
۔وُلِد حكيم في جوف الكعبة

2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو "مولا"کہنا
عربی زبان میں مولا کا لفظ مختلف معانی میں آتا ھے ،
اس کا مطلب وارث بھی آتا ھے جیسا قرآن مجید میں ھے

ولكل جعلنا موالي مما ترك الوالدان والأقربون والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم إن الله كان على كل شيء شهيدا

اسی طرح مولی کا معنی مد کرنے والا بھی ھے جیسا قرآن مجید میں ھے
انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین
اسی معنی میں آقا ﷺ کا ارشاد ھے جس وقت مشرکین نے اپنے معبودان باطلہ کے نعرے لگائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مخاطب کیا کہ تم جواب دو اور آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا ،اللہ ھمارا مدگار ھے اور تمھارا مددگار نہیں

قالَ: إنَّ لنا العُزَّى، ولا عُزَّى لكُم. فقالَ النبيُّ
- صلى الله عليه وسلم -:
"ألا تُجيبوا لهُ؟ ". قالَ: قالوا: يا رسولَ اللهِ! ما نقولُ؛ قالَ:
"قولوا: اللهُ مولانا ولا مَوْلى لكُم"

مولی کا مطلب دوستی اور محبت سے بھی ھے ۔جس سے محبت کی جائے ۔اس کا مطلب سردار کے بھی ھے جو غلام آزاد کرے ،آزاد کردہ غلام کو بھی مولی کہتے ھیں۔چچا کے بیٹے کو بھی کہتے ھیں۔حلیف کو بھی کہتے ھیں جیسا کہ بخاری شریف میں ان تمام معانی کا ذکر ھے

و فی الصحيح البخاري،ج6 ص44۔

وَقَالَ مَعْمَرٌ: " أَوْلِيَاءُ مَوَالِي، وَأَوْلِيَاءُ وَرَثَةٌ، (عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ): هُوَ مَوْلَى اليَمِينِ، وَهْوَ الحَلِيفُ وَالمَوْلَى أَيْضًا ابْنُ العَمِّ، وَالمَوْلَى المُنْعِمُ المُعْتِقُ، وَالمَوْلَى المُعْتَقُ، وَالمَوْلَى المَلِيكُ، وَالمَوْلَى مَوْلًى فِي الدِّينِ "]

حدیث مبارکہ" من کنت مولاہ فعلی مولاہ"جس کا میں مولا ھو،علی رضی اللہ عنہ بھی اس کے مولی ھیں"، میں مولی محبت اور دوست کے معنی میں ھے ۔مطلب اس روایت کا یہ ھے کہ جو مجھ سے محبت اور دوستی رکھتا ھو وہ علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت اور دوستی رکھے ۔ بعض روایات میں غدیر خم کا ذکر ھے ۔تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو کچھ غلط فہمی ھو گئی تھی ۔آقا ﷺ نے اس رنجش کو دور کرنے کے لئے یہ ارشاد فرمایا تھا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولانا کہ کر سلام کرنا منقول ھے ۔بوجہ اسی روایت کے۔ ھمارے عرف میں مولا ،سردار کے معنی میں بولا جاتا ھے ۔اگر اس معنی کے لحاظ سے مولا علی کہیں تو حدیث مبارکہ میں اس معنی میں نہیں آیا۔
نیز ھمارے زمانے میں شیعہ لوگ اس لفظ سے نظریہ امامت یا خلافت یا عقیدہ حلول مراد لیتے ھیں ۔اس لئے اس لفظ کے بولنے سے پرہیز کرنا چاھئے ۔
حوالہ جات

و فی الاعتقاد للبيهقي، ص 354

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي , ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , ثنا ابْنُ دَاوُدَ , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ مكَانَ أَبِي بَكْرٍ لِحَكَمْتُ بِمِثْلِ مَا حَكَمَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فِي فَدَكَ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْمُوَالِاةِ فَلَيْسَ فِيهِ - إِنْ صَحَّ إِسنَادُهُ - نَصٌّ عَلَى وَلَايَةِ عَلِيٍّ بَعْدَهُ، فَقَدْ ذَكَرْنَا مِنْ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ مَا دَلَّ عَلَى مَقْصودِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ أَنَّهُ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيمَنِ كَثُرَتِ الشَّكَاةُ عَنْهُ وَأَظْهَرُوا بُغْضَهُ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرَ اخْتِصَاصَهُ بِهِ وَمَحبَّتَهُ إِيَّاهُ وَيَحُثُّهُمْ بِذَلِكَ عَلَى مَحَبَّتِهِ وَمُوَالِاتِهِ وَتَرْكِ مُعَادَاتِهِ فَقَالَ: «مِنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيَّهُ» وَفِي بَعْضِ الرُّوَايَاتِ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمْ وَالِ مِنْ وَالِاهُ وَعَادِ مِنْ عَادَاهُ. وَالْمُرَادُ بِهِ وَلَاءُ الْإِسْلَامِ وَمَودَّتُهُ، وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يوَالِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَلَا يُعَادِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَهُوَ فِي مَعْنَى مَا ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ «أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي إِلَا -[355]- مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ» . وَفِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ شَكَا عَلِيًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْغِضُ عَلِيًّا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لَا تُبْغِضْهُ وَأَحْبِبْهُ وَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، قَالَ بُرَيْدَةُ: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ أَليَّ مِنْ عَلِيٍّ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وقال اللالكائي، فی شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، ج8 ص 1459

أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَ: نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي بِسْطَامٍ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ النَّاسِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَقَعَ بَيْنَ أُسَامَةَ وَبَيْنَ عَلِيٍّ تَنَازُعٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، يَقُولُ هَذَا لِأُسَامَةَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّهُ» . وَقَالَ لِأُسَامَةَ: «يَا أُسَامَةُ، يَقُولُ هَذَا لِعَلِيٍّ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»
و فی السنة لأبي بكر بن الخلال،ج2 ص350 رقم 465

أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ قَالَ: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ حَسَنٍ وَسَألَهُ رَجُلٌ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ» قَالَ: " بَلَى، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ يَعْنِي بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَارَةَ وَالسُّلْطَانَ لَأَفْصَحَ لَهُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَنْصَحَ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَالَ لَهُمْ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا وَلِيُّ أَمْرِكُمْ، وَالْقَائِمُ لَكُمْ مِنْ بَعْدِي فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، وَاللَّهِ مَا كَانَ وَرَاءَ هَذَا شَيْءٌ، وَاللَّهِ إِنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ اخْتَارَا عَلِيًّا لِهَذَا الْأَمْرِ وَالْقِيَامِ لِلْمُسْلِمِينَ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ، ثُمَّ تَرَكَ عَلِيٌّ مَا اخْتَارَ اللَّهُ لَهُ وَرَسُولُهُ أَنْ يَقُومَ بِهِ حَتَّى يُعْذَرَ فِيهِ إِلَى الْمُسْلِمِينَ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَعْظَمَ ذَنْبًا وَلَا خَطِيَّةً مِنْ عَلِيٍّ إِذْ تَرَكَ مَا اخْتَارَ اللَّهُ لَهُ وَرَسُولُهُ حَتَّى يَقُومَ فِيهِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ

و قال الامام أحمد بن حنبل، فی فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل، ٥٧٢/٢

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ رِيَاحٍ الْحَارِثِ قَالَ: جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالرَّحَبَةِ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا، فَقَالَ: كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عُرْبٌ؟ قَالُوا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ» . قَالَ رِيَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوَا اتَّبَعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ

و قال ابن قُرْقُول،فی مطالع الأنوار على صحاح الآثار، ٢٠٨/٦

قوله - صلى الله عليه وسلم -: "مُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ مَوَالِيَّ" أي: أوليائي المختصون بي ، وهذا مثل قوله: "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" أي: وليه، ومنه {ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ} [محمد: 11] أي : لا ولي لهم

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح
مفتی زکریا
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
13 اپریل 2019
7 شعبان المعظم 1440



Share:

Related Question:

Categeories