16-Oct-2018 /05- Ṣafar-1440

Question # 7216


عبادت کی کتنی قسمیں ہیں؟

السلام علیکم
عبادت کی کتنی قسمیں ہیں؟
صرف نماز پڑھنا روزے رکھنا اور زکوة وغیرہ کی ادائیگی ہی عبادت ہے یا کچھ اور اعمال بھی عبادت میں شامل ہیں اور وہ کیا اعمال ہیں؟
جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اس سے میرے ذہن میں اکثر سوال آتا ہے کہ جنات اور فرشتے بھی تو اس مقصد کے لئے تھے تو پھر انسان کی تخلیق کا کیا مقصد ہے؟
صرف عبادت ہی مقصد ہے؟ یا پھر کچھ اور بھی ہے جو عبادت میں ہی داخل ہے جس سے میرے جیسی کم علم و کج فہم نا واقف ہے؟
پلیز مفتی صاحب مجھے تفصیل سے جواب دیجئے گا ۔

Asked By: مسز لبنی رضوان - Date: Jun 03, 2018 - Question Visits: 29



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں جو ارشاد فرمایا کہ
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
میں نے جن و انس کو اپنی عبادت ھی کے لئے پیدا کیا ۔
(سورہ ذاریات )۔

عبادت سے مراد اس آیت میں صرف نماز روزہ زکواة اور حج نہیں ۔بلکہ مراد اللہ کے امر کی تعظیم اور مخلوق پر رحم اور اس کا خیال رکھنا ھے ۔یہ معنی امام رازی رح نے بیان فرمائے ۔اللہ کے امر کی تعظیم میں حقوق اللہ آ گئے اور مخلوق کے خیال۔رکھنے میں حقوق العباد آ گئے ۔

یہ معنی سب سے جامع ھے ۔
فرق انسان اور فرشتے میں یہ ھے کہ اس کو اختیار بھی دے دیا اور پھر امتحان ھے کہ کیا کرتا ھے اور کدھر جاتا ھے ۔فرشتوں کی یہ آزمائش نہیں

مَا الْعِبَادَةُ الَّتِي خُلِقَ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ لَهَا؟ قُلْنَا: التَّعْظِيمُ لِأَمْرِ اللَّهِ وَالشَّفَقَةُ عَلَى خَلْقِ اللَّهِ، فَإِنَّ هَذَيْنِ النَّوْعَيْنِ لَمْ يَخْلُ شَرْعٌ مِنْهُمَا، وَأَمَّا خُصُوصُ الْعِبَادَاتِ فَالشَّرَائِعُ مُخْتَلِفَةٌ فِيهَا بِالْوَضْعِ وَالْهَيْئَةِ وَالْقِلَّةِ وَالْكَثْرَةِ وَالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ وَالشَّرَائِطِ وَالْأَرْكَانِ، وَلَمَّا كَانَ التَّعْظِيمُ اللَّائِقُ بِذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ لَا يُعْلَمُ عَقْلًا لَزِمَ اتِّبَاعُ الشَّرَائِعِ فِيهَا وَالْأَخْذُ بِقَوْلِ الرُّسُلِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَقَدْ أَنْعَمَ/ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ بِإِرْسَالِ الرُّسُلِ وَإِيضَاحِ السبل في نَوْعَيِ الْعِبَادَةِ، وَقِيلَ إِنَّ مَعْنَاهُ لِيَعْرِفُونِي،
( تفسیر کبیر جلد 28 ص 188)

تفسیر ماجدی میں ھے

"مخلوقات میں یہ دو قسمیں ایسی ہیں جن میں خالق نے پورا احساس ذمہ داری رکھ دیا ہے۔ اور ان کے اندر ابتلاء واختیار دونوں کی صلاحیتیں جمع کردی ہیں۔ بخلاف فرشتوں کے جو ابتلاء سے خالی رکھے گئے ہیں۔ اور بخلاف حیوانات کے جنہیں اختیار کی پوری قوت نہیں دی گئی ہے۔ پوری طرح پر ذمہ دارہستیاں بناکر یہی دو مخلوق دنیا میں بھیجی گئی ہیں۔ ان کی اپنی تکمیل ذات کے لئے یہ لازمی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کریں عبادت ہی کی راہ سے کریں، کھائیں پئیں، بولیں چالیں، چلیں، پھریں، کمائیں، خرچ کریں، ہر فعل ہر عمل سے مقصود اصلی رضاء الہی کا حصول ہی رکھیں۔ اپنے وجود کی علت غائی اسی کو سمجھیں، یہی معنی ہیں ان کی عبادت کے، عبدیت و عبادت سے خود انسانیت ہی کو پورے نشوونما کا موقع ملتا ہے۔ اور جتنی اس میں کمی رہ جائے گی، اسی نسبت سے انسان کا منشائے تکمیل ناتمام رہے گا۔ (آیت) ” لیعبدون “۔ ل تعلیل کا ہے۔ لیکن مقصود تخلیق سے اشارہ غرض وغایت تشریعی کی جانب کرنا ہے، نہ کہ مقصد تکوینی کی جانب"

بعض حضرات نے عبادت کی تفسیر ان آیات میں توحید سے بھی کی ھے ، جبکہ بعض نے معرفت سے ۔ بعض نے عبادت کی تفسیر ہر اس کام۔سے کی ھے جو اللہ کو پسند ھے اور جس سے وہ خوش ھوتا ھے چاھے اقوال سے ھو، یا افعال سے یا کیفیات سے ۔ بعض نے غایت تذلل اور عاجزی سے جو اللہ کے آگے اختیار کی جائے ۔ اور بعض نے لکھا ھے کہ مراد یہ ھے عبادت کی استعداد پیدا کی اور امتحانا حکم دیا کہ کون اس کی۔مانتا ھے ۔؟
جو معنی امام رازی نے بیان کیا اور جس کو تفسیر ماجدی میں لکھا ھے ، یہ سب سے جامع ھے ۔
اس کے علاوہ دیگر اقوال تفصیلا لکھ رھا ھوں ۔

تفسیر مظہری میں ھے

"ظاہر آیت کا اقتضاء ہے کہ اللہ کی مراد یہی ہے کہ جن و انس اس کی طاعت کریں اور فرمانبردار ہوں اور مراد خداوندی کے خلاف کچھ ہو نہیں سکتا۔ پھر بہت سے جن و انس کیوں کفر و شرک کرتے ہیں اور کیسے نافرمان ہوسکتے ہیں۔
اس شبہ کو دور کرنے کے لیے حضرت علی (رض) نے آیت کا تفسیری ترجمہ اس طرح کیا ہے ‘ میں نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا ‘ مگر صرف اس لیے کہ ان کو اپنی عبادت کا حکم دوں۔ یعنی اپنے احکام کو مکلّف بناؤں۔ اسی مفہوم کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے اور فرمایا ہے : وَمَآ اُمِرُوْٓا الاَّ لِیَعْبُدُوْا اِلٰھًا وَّاحِدًا : یعنی ان کو صرف ایک معبود کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کذا ذکر البغوی : قول علی (رض) ۔
مجاہد نے ” لیعبدون “ کا ترجمہ کیا ہے : ” لیعرفون “ مجھے پہچانیں اور کافر بھی اللہ کے وجود کو تو پہچانتے ہی ہیں ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللہ : اگر آپ ان (مشرکوں) سے دریافت کریں کہ تم کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے۔
بعض علماء نے ” لیعبدون “ کا ترجمہ کیا میرے سامنے عاجزی کریں۔ منقاد و مطیع بن جائیں۔ عبادت کا لغوی معنی ہے عاجز ہونا اور خضوع کرنا۔ یہی معنی یہاں مراد ہے کافر ہو یا مؤمن ہر مخلوق فیصلۂ خداوندی کے سامنے عاجز ہے۔ جس مقصد کے لیے جس کو پیدا کیا گیا ہے کوئی بھی اس سے سرتابی نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ خود بھی اپنی تخلیق کے مقصد سے خارج نہیں ہوسکتا
بعض اہل تفسیر نے کہا : عبادت سے مراد ہے اقرار توحید یعنی اپنی توحید کے لیے تمام جن و انس کو پیدا کیا۔ مؤمن تو ہر دکھ ‘ سکھ اور تکلیف و راحت میں تنہا اللہ کو پکارتا ہی ہے لیکن کافر پر بھی جب ناقابل تدبیر دکھ آتا ہے تو خدا ہی کو پکارتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللہ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ : صاحب مدارک نے کہا ہے سارے کافر بھی آخرت میں توحید کا اقرار کرلیں گے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ اِلَّا اِنْ قَالُوْا وَ اللہ ِ رَبِّنَامَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ : اگر کفار دنیا میں توحید کے منکر ہوں تب بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ توحید کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے (کیونکہ قیامت کے دن تو توحید کا اقرار سب ہی کرلیں گے) ۔
میں کہتا ہوں صحیح قول حضرت علی کا ہے باقی دوسرے اقوال کمزور ہیں۔ معترضین نے اپنے شبہ کو قوّت پہنچانے کے لیے ایک آیت اور ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ: ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جن و انس کو پیدا کیا ہے۔
حدیث مبارک ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کُلٌّ مَّیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ : ہر ایک کے لیے وہ کام آسان کردیا جاتا ہے (یعنی اس کام کی توفیق دی جاتی ہے) جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔
کلبی ‘ ضحاک اور سفیان ثوری (رض) نے اعتراض مذکور سے بچنے کے لیے کہا کہ آیت مذکورہ میں خاص افراد یعنی کامل طاعت والے جن و انس مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس کی قرأت سے اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس کی قراءت اس طرح ہے : مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ الاَّ لِیَعْبُدُوْنَِ ۔
میرے نزدیک آیت کا تفسیری صحیح مطلب اس طرح ہے : میں نے جن و انس کو (یعنی تمام جن و انس کو) عبادت کرنے کے قابل پیدا کیا۔ یعنی ہر شخص میں اداء عبادت کی صلاحیت اور استعداد پیدا کردی۔ اس تفسیر کی تائید صحیحین کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے ماں ‘ باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے جانور کا بچہ صحیح وسالم پیدا ہوتا ہے کیا تم کسی چوپائے کو ناک ‘ کان کٹا (پیدا ہوتا) دیکھتے ہو پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت : فِطْرَۃَ اللہ الَّتِیْ فِطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللہ تلاوت فرمائی۔ (رواہ ابوہریرہ (رض) یہ تاویل حضرت علی (رض) کی تفسیر کے مناسب ہے۔ اس آیت کا مقتضی کافروں کی مذمت ہے کہ ان کو فطرت سلیمہ عطا کی گئی مگر انہوں نے اصل فطرت کو ضائع کردیا"انتھی ۔

اسی معنی کو مفتی شفیع صاحب رح نے اختیار کیا ھے ۔
معارف القرآن میں ھے ۔

"اور اسی سے اس آیت کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے جس میں ارشاد ہے وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ، یعنی ہم نے جن اور انسان کو اور کسی کام کے لئے نہیں پیدا کیا، بجز اس کے وہ ہماری عبادت کیا کریں ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی فطرت میں ہم نے عبادت کی رغبت اور استعداد رکھ دی ہے۔ اگر وہ اس استعاد سے کام لیں تو بجز عبادت کے کوئی دوسرا کام اس کے خلاف ہرگز سرزد نہ ہو "۔ 

حضرت ڈاکٹر مفتی عبد الواحد دامت برکاتھم لکھتے ھیں۔
"جو ذات انتہائی درجے کی عظمت والی ہو اس کے سامنے دلی محبت کے ساتھ انتہائی درجے کی تواضع اورذلت اختیار کرنے کو عبادت کہتے ہیں ۔ اس کی صورتیں یہ ہیں کہ آدمی اس کی خوشی اور اس کی تعظیم کی خاطر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجائے اور اپنے آپ کو
خوب جھکادے یہاں تک کہ اس کے سامنے اپنا ماتھا زمین پر ٹیک دے۔ اس کے لیے کھانا پینا چھوڑ دے۔ اس کے نام پر اپنا عزیز مال خرچ کرے اس کے لیے مخصوص ہیئت اختیار کرکے اور نفس کے تقاضوں کو ترک کرکے سفر کرے اور اس کے گھر کے گرد دیوانہ وار چکر لگائے اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اپنی جان تک قربان کردے اور اپنا خون زمین پر بہا دے۔ دوسرے لفظوں میں نماز، روزہ، زکوۃ، حج اورجہاد عبادت کے وہ کام ہیں جن کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔
عبادت کی احسن اور علیٰ وجہ الاتم ادائیگی چونکہ اس وقت ہوسکتی ہے جب دل محبت اور تعظیم کے جذبہ سے بھرا ہوا ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو ذہنی وقلبی فراغت اور یکسوئی حاصل ہو۔ یہ یکسوئی اس وقت ممکن ہے جب آدمی کی ایک تو بنیادی ضرورت پوری ہو رہی ہو اور دوسرے وہ آپس کے جھگڑوں اور رنجشوں سے امن میں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں بنیادی ضرورتیں پوری ہونے کے لیے مسلمانوں کے افراد اور مسلمانوں کی اجتماعیت وحکومت کواحکام دئیے وہیں آپس کے جھگڑوں اور رنجشوں سے بچنے کے لیے آپس کے معاملات کے بارے میں احکام اورہدایات عطا فرمائیں ۔ ان احکام کا بنیادی نکتہ ہی یہی ہے کہ آپس کے جھگڑے کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔
ہماری اس گذارش سے یہ بات حاصل ہوئی کہ مسلمان کی زندگی میں عبادت کو اصل کا مقام حاصل ہے اورمعاملات کے احکام اس غرض سے ہیں کہ وہ عبادت جو کہ تخلیق کی غرض وغایت ہے اس کی ادائیگی میں یہ ممدو معاون ہیں "۔
(مسائل بھشتی زیور ۔ڈاکٹر مفتی عبد الواحد)

تفسیر قرطبی میں ھے

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56)

قوله تعالى : وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون قيل : إن هذا خاص فيمن سبق في علم الله أنه يعبده ، فجاء بلفظ العموم ومعناه الخصوص . والمعنى : وما خلقت أهل السعادة من الجن والإنس إلا ليوحدون . قال القشيري : والآية دخلها التخصيص على القطع ; لأن المجانين والصبيان ما أمروا بالعبادة حتى يقال أراد منهم العبادة ، وقد قال الله تعالى : ولقد ذرأنا لجهنم كثيرا من الجن والإنس ومن خلق لجهنم لا يكون ممن خلق للعبادة ، فالآية محمولة على المؤمنين منهم ; وهو كقوله تعالى : قالت الأعراب آمنا وإنما قال فريق منهم . ذكره الضحاك والكلبي والفراء والقتبي . وفي قراءة عبد الله : " وما خلقت الجن والإنس من المؤمنين إلا ليعبدون " وقال علي رضي الله عنه : أي وما خلقت الجن والإنس إلا لآمرهم بالعبادة . واعتمد الزجاج على هذا القول ، ويدل عليه قوله تعالى : وما أمروا إلا ليعبدوا إلها واحدا . فإن قيل : كيف كفروا وقد خلقهم للإقرار بربوبيته والتذلل لأمره ومشيئته ؟ قيل : قد تذللوا لقضائه عليهم ; لأن قضاءه جار عليهم لا يقدرون على الامتناع منه ، وإنما خالفهم من كفر في العمل بما أمره به ، فأما التذلل لقضائه فإنه غير ممتنع منه . وقيل : إلا ليعبدون أي إلا ليقروا لي بالعبادة طوعا أو كرها ; رواه علي بن أبي طلحة عن ابن عباس . فالكره ما يرى فيهم من أثر الصنعة . مجاهد : إلا ليعرفوني . الثعلبي : وهذا قول حسن ; لأنه لو لم يخلقهم لما عرف وجوده وتوحيده . ودليل هذا التأويل قوله تعالى : ولئن سألتهم من خلقهم ليقولن الله ولئن سألتهم من خلق السماوات والأرض ليقولن خلقهن العزيز العليم وما أشبه هذا من الآيات . وعن مجاهد أيضا : إلا لآمرهم وأنهاهم . زيد بن أسلم : هو ما جبلوا عليه من الشقوة والسعادة ; فخلق السعداء من الجن والإنس للعبادة ، وخلق الأشقياء منهم للمعصية . وعن الكلبي أيضا : إلا ليوحدون ، فأما المؤمن فيوحده في الشدة والرخاء ، وأما الكافر فيوحده في الشدة والبلاء دون النعمة والرخاء ; يدل عليه قوله تعالى : وإذا غشيهم موج كالظلل دعوا الله مخلصين له الدين الآية . وقال عكرمة : إلا ليعبدون ويطيعون فأثيب العابد وأعاقب الجاحد . وقيل : المعنى إلا لأستعبدهم . والمعنى متقارب ; تقول : عبد بين العبودة والعبودية ، وأصل العبودية الخضوع والذل . والتعبيد التذليل ; يقال : طريق معبد . قال طرفة بن العبد :
وظيفا وظيفا فوق مور معبد
والتعبيد الاستعباد وهو أن يتخذه عبدا . وكذلك الاعتباد . والعبادة الطاعة ، والتعبد التنسك . فمعنى ليعبدون ليذلوا ويخضعوا ويعبدوا ".انتھی ۔۔

و فی تفسیر طنطاوی
"وَما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ.
وللعلماء في تفسير هذه الآية أقوال منها: أن معناها: إنى ما أوجدت الجن والإنس إلا وهم مهيئون لعبادتي وطاعتي. بسبب ما ركبت فيهم من عقول تعقل، وبسبب ما أرسلت إليهم من رسل يهدونهم إلى الخير، فمنهم من أطاع الرسل، وجرى على مقتضى ما تقتضيه الفطرة، فآمن بالرسل، واتبع الحق والرشد، ففاز وسعد، ومنهم من أعرض عن دعوة الرسل، وعاند فطرته وموجب استعداده فخسر وخاب.
ومنهم من يرى أن معناها: إنى ما خلقت الجن والإنس إلا ليقروا لي بالعبودية طوعا أو كرها، لأن المؤمن يطيع باختياره، والكافر مذعن منقاد لقضاء ربه، كما في قوله- تعالى-:
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً.
ومنهم من يرى معناها: إنى ما خلقت الجن والإنس إلا ليعرفونى.
قال القرطبي ما ملخصه: قوله- تعالى-: وَما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ قيل: إن هذا خاص فيمن سبق في علم الله أنه يعبده. فجاء بلفظ العموم ومعناه الخصوص..
فالآية في المؤمنين منهم.
وقال على- رضى الله عنه-: أى: وما خلقت الجن والإنس إلا لآمرهم بعبادتي قال- تعالى- وَما أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفاءَ.
وقيل: إِلَّا لِيَعْبُدُونِ أى: إلا ليقروا لي بالعبادة طوعا أو كرها.
ويبدو لنا أن أرجح هذه الأقوال هو ما أشرنا إليه أولا، من أن معنى الآية الكريمة، أن الله- تعالى- قد خلق الثقلين لعبادته وطاعته، ولكن منهم من أطاعه- سبحانه-، ومنهم من عصاه. لاستحواذ الشيطان عليه.
قال الإمام ابن كثير بعد أن ذكر جملة من الأقوال: ومعنى الآية أنه- تعالى- خلق العباد ليعبدوه وحده لا شريك له، فمن أطاعه جازاه أتم الجزاء، ومن عصاه عذبه أشد العذاب.
وفي الحديث القدسي: قال الله- عز وجل- «يا ابن آدم، تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى، وأسد فقرك، وإلا تفعل ملأت صدرك شغلا، ولم أسد فقرك ... » .
وفي بعض الكتب الإلهية. يقول الله- تعالى- «يا ابن آدم، خلقتك لعبادتي فلا تلعب، وتكفلت برزقك فلا تتعب، فاطلبنى تجدني. فإن وجدتني وجدت كل شيء، وإن فتك فاتك كل شيء، وأنا أحب إليك من كل شيء»."

تفسیر بغوی میں ھے
وقال مجاهد : إلا ليعرفوني . وهذا أحسن لأنه لو لم يخلقهم لم يعرف وجوده وتوحيده ، دليله : قوله تعالى : " ولئن سألتهم من خلقهم ليقولن الله " ( الزخرف - 87 ) .
وقيل : معناه إلا ليخضعوا إلي ويتذللوا ، ومعنى العبادة في اللغة : التذلل والانقياد ، فكل مخلوق من الجن والإنس خاضع لقضاء الله ، متذلل لمشيئته لا يملك أحد لنفسه خروجا عما خلق عليه .
وقيل : " إلا ليعبدون " إلا ليوحدوني ، فأما المؤمن فيوحده في الشدة والرخاء ، وأما الكافر فيوحده في الشدة والبلاء دون النعمة والرخاء ، بيانه قوله - عز وجل - : " فإذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين " . ( العنكبوت - 65 ) 
(تفسیر بغوی تحت ھذہ الآیت)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
3 جون 2018
18 رمضان 1439



Share:

Related Question:

Categeories