21-May-2022 /19- Shawwāl-1443

Question # 8017


گم ہونے والے شخص کی وراثت کا حکم؟

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب
میرے والد صاحب کو گم ہوئے 30 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیاہے ۔
1۔کیا فوت ہوجانے والے اور گم ہو جانے والے کی میراث کا حکم ایک ہوتا ہے یا الگ۔؟
2۔میرے والد صاحب کی دوشادیاں ہیں ان کی8 بیٹیاں اور 4 بیٹے ہیں
پہلی اہلیہ سے 4 بیٹیاں اور1 بیٹا ہے
دوسری اہلیہ سے 3 بیٹے اور1 بیٹی ہے
پہلی اہلیہ سے ہونے والی 2بیٹیاں وفات پاچکی ہیں ایک کو فوت ہوئے 6سال اور ایک کو3 سال ہوگئے ہیں ان دونوں کی اولاد بھی ہے۔
ہماری زمین سیل ہوئی 2000000 بیس لاکھ میں یہ بیس لاکھ کس طرح تقسیم ہوں گے
ہماری والدہ بھی ہیں
فوت ہونے والی ایک بہن کی 2 بیٹیاں اور1 بیٹا دوسری کی 1بیٹی ہے.

Category: Missing Person - Asked By: مولاناشفیق - Date: Dec 02, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
لاپتہ شخص اپنے مال کے حق میں زندہ سمجھا جاتا ھے اس لئے اس کا مال بطور میراث تقسیم نہیں کیا جائے گا۔البتہ جب گمشدہ شخص کی عمر نوے سال ھو جائے تو اس کو مردہ سمجھ کر ،اس کی میراث تقسیم کی جائے گی یا اس کے بارے میں قاضی یا حاکم سے رجوع کیا جائے۔اور جو ورثاء اس وقت زندہ ھو ،ان میں ترکہ تقسیم ھو گا۔
نوٹ:نکاح کے معاملے میں گمشدہ شخص کی بیوی کے لئے مالکیہ کے قول پر فتوی ھے مگر میراث کے معاملے میں مالکیہ اور احناف کا ایک ھی قول ھے کہ نوے سال تک انتظار کیا جائے گا۔اس دوران قاضی گمشدہ شخص کے چھوڑے ھوئے مال سے ان لوگوں کے لئے نان نفقہ مقرر کرے گا جن کا نفقہ ،اس پر لازم تھا۔مگر قاضی گمشدہ سخص کی جائیداد نہیں بیچ سکتا۔

و فی اعلاء السنن جلد 13 ص70

وأما المیراث: فمذھبھما کمذھبنا فی التقدیر بتسعین سنۃ أو الرجوع الی رأی الحاکم، وعند أحمد إن کان یغلب علی حالہ الھلاک فھذا بعدأربع سنین یقسم مالہ، وتعتد زوجتہ بخلا ف ما إذا لم یغلب علیہ الھلاک فإنہ یفوض للحاکم فی روایۃ عنہ، وفی أخری یقدر بتسعین من مولدہ کمافی شرح ابن الشختہ

و فی الرد المختار جلد4 ص296

کتاب المفقود:قوله ( وميت في حق غيره ) معطوف على قوله وهو في حق نفسه حي كما مر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوله ( ولا يستحق الخ ) أي لا يحكم باستحقاقه للوصية بعد موت الموصي ولا بعدمه بل يوقف إلى ظهور الحال فإن ظهر إلى آخر ما سيذكره المصنف ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوله ( على المذهب)وقيل يقدر بتسعين سنة بتقديم التاء من حين ولادته واختاره في الكنز وهو الأرفق هداية وعليه الفتوى ذخيرة ۔

وفی الدرالمختار جلد 4 ص 296

کتاب المفقود:( وبعده يحكم بموته في حق ماله يوم علم ذلك ) أي موت أقرانه ( فتعتد ) منه ( عرسه للموت ويقسم ماله بين من يرثه الآن و ) يحكم بموته ( في) حق ( مال غيره من حين فقده فيرد الموقوف له إلى من يرث مورثه عند موته ) لما تقرر أن الاستصحاب وهو ظاهر الحال حجة دافعة لا مثبتة۔

وفی الرد تحتہ:قوله ( بين من يرثه الآن ) أي حين حكم بموته لا من مات قبل ذلك الوقت من ورثته زيلعي ۔۔۔ قوله ( من حين فقده ) أي مال لم تعلم حياته في وقت كما مر قوله ( عند موته ) أي موت المورث قوله ( حجة دافعة ) فتدفع ثبوت حق لغيره في ماله قوله ( لا مثبتة ) فلا يثبت له حق في مال غيره۔

وفیہ ایضا جلد 6 ص659

کتاب الوصایا:قوله ( وتبطل هبة المريض ووصيته الخ ) لأن الوصية إيجاب عند الموت وهي وارثة عند ذلك ولا وصية للوارث والهبة۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح  
مفتی زکریا   
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
2 دسمبر 2019
3 ربیع الثانی 1441



Share:

Related Question:

Categeories