16-Oct-2018 /05- Ṣafar-1440

Question # 7220


حاملہ عورت کیلئے روزہ کا حکم؟

اسلام علیکم . میرے دو سوال ہیں
١۔ ځاملہ عورت کے لۓ روزے کا کیا ځکم ہے؟
٢۔ قرآن پڑھانے کے لۓ اجرت لینا کیسا ہے؟

Category: Fasting (احكام الصيام) / breaking of fasting - Asked By: Mrs.AbduLBARRI - Date: May 21, 2018 - Question Visits: 27



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
وعلیکم السلام ۔
1۔اگر حاملہ خاتون کو روزے کی وجہ سے بچے پر نقصان کا اندیشہ ھو یا روزے برداشت نہ ھو رھا ھو ،تو وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں اس کی قضا کرے ۔
و فی الھندیہ
الحامل والمرضع اذا خافتا علی انفسھما او ولدھما افطرتا وقضتا

فتاویٰ عالمگیری الاعذار التی یبیح الا فطار

2۔قرآن پڑھانے کا معاوضہ لینا درست ھے ۔ہر وہ نیک عمل،جس پر لوگوں کے دین کی بقا موقوف ھو ،اس کی اجرت شرعا جائز ھے

قال فی الہدایہ: و بعض مشایخنا رحمہم اللہ تعالیٰ استحسنوا الاستئجار علی تعلیم القرآنالیوم لظہور التوانی فی الامور الدینیہ ففی الامتناع تضیبع حفظ القرآن، و علیہ الفتویٰ - و زاد فی متن المجمع: الامۃ، و مثلہ فی متن الملتقی و درر البحار ( رد المحتار، کتاب الاجارۃ، مطلب فی الاستئجار، علی الطاعات ٦/٥٥

فہذا دلیل قاطع و برہان ساطع علی ان المفتی بہ لیس ہو جواز الاستئجار علی کل طاعۃ بل علی ما ذکروہ فقط فما فیہ ضرورۃ ظاہرۃ تبیح الخروج من اصل المذہب من طرو المنع- وقد ذکرنا مسئلۃ تعلیم القرآن علی استحسان یعنی للضرورۃ، ولا ضرورۃ فی الاستئجار علی القرأ ۃ علی القبر - ولا یصح الاستئجار علی القرأۃ ( رد المحتار مطلب تحریر فہم فی عدم جواز الاستئجار علی التلاوۃ .٦/٥٦،

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح
مفتی زکریا
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
17 مئی 2018
1 رمضان 1439



Share:

Related Question:

Categeories