21-May-2022 /19- Shawwāl-1443

Question # 8012


طلاق بیوی کے سپرد کرنے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ

جی اگر کسی کے شوہر نے نکاح کے دوران اپنی بیوی سے کہا کہ تمنے اگر کبھی کہا کہ میں طلاق لیتی ہوں تو تمہیں طلاق ہے..اور اگر ہم کبھی اتنی دور ہو گئے کہ بات ہونا اتنا دشوار ہو جائے کہ ایک مہینہ بغیر بات کئی گزر جائے تو تم بس اپنے آپ کو سناکر اس طرح کا کوئی جملہ طلاق کی نیت سے کہہ دینا جیسے .. *میں طلاق لیتی ہوں ..میں آزاد ہوتی ہوں وغیرہ* تو تم میری طرف سے آزاد ہو ..پھر جس سے نکاح کرایا جائے کر لینا

تو کیا اس لڑکی کو ان دونوں طریقوں سے طلاق واقع ہو جائیگی؟؟؟

Category: divorce - Asked By: بنت عطاء الرحمن - Date: Nov 30, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتیں شرط کی ھیں۔جب بیوی یہ کہے گی تو اس پر ایک طلاق واقع ھو جائے گی۔البتہ کوئی ایک جملہ کہنے کے بعد طلاق کی عدت کے اندر ھی دوسرا کہا تو دوسری طلاق بھی پڑ جائے گی۔اگر عدت گزرنے کے بعد کہا تو طلاق نہیں پڑے گی ۔بشرطیکہ عدت کے دوران رجوع نہ کیا ھو۔ نیز دوسرا جملہ کہنے کی صورت میں "تم میری طرف سے آزاد" سے ایک طلاق بائنہ پڑے گی۔(وہ طلاق جس میں آپس میں رجوع کرنے کے لئے آپس میں دوبارہ نیا نکاح کرنا پڑتا ھے)۔
و فی الفتاوى الهندية، جلد 1 ص403

وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ مَتَى شِئْتِ فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ فِي الْمَجْلِسِ وَبَعْدَهُ وَلَهَا الْمَشِيئَةُ مَرَّةً وَاحِدَةً وَكَذَا قَوْلُهُ: مَتَى مَا شِئْتِ وَإِذَا مَا شِئْتِ وَلَوْ قَالَ: كُلَّمَا شِئْتِ كَانَ ذَلِكَ لَهَا أَبَدًا حَتَّى يَقَعَ ثَلَاثًا كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ.

و فی الفتاوى الهندية،جلد 1 ص416
وَزَوَالُ الْمِلْكِ بَعْدَ الْيَمِينِ بِأَنْ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ لَا يُبْطِلُهَا فَإِنْ وُجِدَ الشَّرْطُ فِي الْمِلْكِ انْحَلَّتْ الْيَمِينُ بِأَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْت طَالِقٌ فَدَخَلَتْ وَهِيَ امْرَأَتُهُ وَقَعَ الطَّلَاقُ وَلَمْ تَبْقَ الْيَمِينُ وَإِنْ وُجِدَ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ انْحَلَّتْ الْيَمِينُ بِأَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْت طَالِقٌ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ وُجُودِ الشَّرْطِ وَمَضَتْ الْعِدَّةُ ثُمَّ دَخَلَتْ الدَّارَ تَنْحَلُّ الْيَمِينُ وَلَمْ يَقَعْ شَيْءٌ كَذَا فِي الْكَافِي.
وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْت طَالِقٌ ثَلَاثًا فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ دُخُولِ الدَّارِ فَتَزَوَّجَتْ بِزَوْجٍ آخَرَ وَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ عَادَتْ إلَى الزَّوْجِ الْأَوَّلِ فَدَخَلَتْ الدَّارَ طَلَقَتْ ثَلَاثًا فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى - كَذَا فِي الْبَدَائِعِ
تَنْجِيزُ الطَّلْقَاتِ الثَّلَاثِ يُبْطِلُ تَعْلِيقَ الثَّلَاثِ وَمَا دُونَهَا فَلَوْ عَلَّقَ الثَّلَاثَ أَوْ مَا دُونَهَا ثُمَّ نَجَّزَ الثَّلَاثَ قَبْلَ وُجُودِ الشَّرْطِ ثُمَّ عَادَتْ إلَيْهِ بَعْدَ التَّحْلِيلِ ثُمَّ وُجِدَ الشَّرْطُ لَا يَقَعُ شَيْءٌ أَصْلًا
و فی التنویر الابصار مع در المختار ،جلد 3 ص306

(الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَ) يَلْحَقُ (الْبَائِنُ) بِشَرْطِ الْعِدَّةِ (وَالْبَائِنُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ) الصَّرِيحُ مَا لَا يَحْتَاجُ إلَى نِيَّةٍ بَائِنًا كَانَ الْوَاقِعُ بِهِ أَوْ رَجْعِيًّا

و فی البنایۃ شرح الہدایۃ جلد 5 ص456
لا ملک بعد انقضائہا ، فإذا انتقضت العدۃ لم یبق محل الإمساک، والطلاق الرجعی في الحال سبب لزوال الملک عند انقضاء العدۃ

و فی البدائع الصنائع / فصل في حکم الطلاق البائن جلد 3 ص295

وأما حکم الطلاق البائن: … ہو نقصان عدد الطلاق وزوال الملک أیضا حتی لا یحل لہ وطوہا إلا بنکاح جدید، … ولا یحرم حرمۃ غلیظۃ حتی یجوز لہ نکاحہا من غیر أن تتزوج بزوج آخر ؛ لأن مادون الثلاثۃ، وإن کان بائنا، فإنہ یوجب زوال الملک لا زوال حل المحلیۃ

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح  
مفتی زکریا   
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
29 نومبر 2019
یکم۔ربیع الثانی 1441



Share:

Related Question:

Categeories