26-Sep-2022 /29- Ṣafar-1444

Question # 8020


کوئی بیٹا اپنی ذاتی پیسوں سے کوئی جائیداد خرید کر والدکے نام کردینے کا حکم

مستفتی:مولانا یاسر

سوال:۔(۱) اگر ایک بیٹا اپنے ذاتی پیسوں سے کوئ جائیداد خرید کر اپنے والد کے نام پر منتقل کرواتا ہے پھر والد کی وفات کے بعد وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ میں نے والد کو مالک نہیں بنایا تھا اور نہ ہی حق تصرف دیا تھا بلکہ صرف ان کی عزت و اکرام کے لئے ایسا کیا تھا تو کیا یہ جائیداد اس دعوی کی وجہ سے ترکہ سے نکل جائے گی یا ترکہ ہی شمار ہوگی؟ جبکہ والد نے بھی کبھی عملی طور پر تصرف نہیں کیا تھا ۔کیا اس دعوی کے اعتبار کے لیۓ کسی شرعی ثبوت کی احتیاج ہوگی؟ اگر ہوگی تو اس کا کیا طریقہ کار ہے ۔؟
(2 ) اگر دو یا زیادہ بھائیوں نے اپنے اپنے ذاتی پیسوں سے مشترکہ طورپر جائیداد خریدی اور پھر والد کے نام کرادی ، پھر بعض نے اوپر والا مذکور دعوی کیا اور بعض نے کہا کہ ہم نے تو والد کے نام کرادی تھی اور مالک بنانے اور حق تصرف دینے کی نیت بھی کی تھی اگرچہ والد نے عملی طور پر اس میں کبھی تصرف بھی نہیں کیا تھا تو اس مشترکہ جائیداد میں دعوی والے بھائ کو ترکہ کے ساتھ اپنے مال کے بقدر شریک شمار کریں گے یا پھر سارا ترکہ ہی شمار ہوگا ۔؟
(3 ) اگر دو یا تین بھائیوں نے اپنے ذاتی پیسوں سے ایک مشترکہ جائیداد خریدی جبکہ اپنے میں سے ہی ایک بھائ کو بیع مکمل کرنے کا وکیل بنایا پھر اس وکیل بھائ نے اپنے موکل بھائیوں میں سے بعض کی مرضی کے بغیر یا منع کرنے کے باوجود اپنے چوتھے بھائ کا نام حکومتی کاغذوں میں لکھوادیا یا خود اپنا نام اس میں لکھوادیا جبکہ یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ مال میں شریک نہ تھا تو کیا مرضی کے بغیر یا منع کرنے کے باوجود جس شخص کا نام وکیل بیع نے لکھوایا ہے، وہ اس جائیداد کا مالک شمار ہوگا یا نہیں؟ اور اس نئے شخص کا اس جائیداد پر قبضہ کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں حکم پر کوئ اثر ہوگا یا نہیں؟

(4 ) اسی مذکورہ صورت میں مشتری بھائیوں میں سے جس بھائ کو اپنے وکیل بھائ کے اس فعل کا علم ہوا کہ اس نے کسی دوسرے آدمی کا یا اپنا نام ہماری اجازت کے بغیر لکھوادیا ہے، پھر اس کا علم ہوجانے پر بھی وہ خاموش رہا تو یہ خاموشی اس نئے آدمی کو مالک بنادے گی یا رب المال کا مالک بنانے کی نیت پھر بھی شرط ہے؟
(5) پھر اسی صورت میں اگر رب المال نے نئے آدمی کو قبضہ دیا اور اس قبضہ دینے میں نئے آدمی کو صرف نفع دینے کی نیت کی اور مالک بنانے کی نیت نہ کی تو کیا رب المال کی اس نیت کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟ پھر جایداد کا کیا حکم ہو گا ؟
(6) والد نے اپنی ملکیت والی جائیداد کا کسی ایک یا دو بیٹوں کو منتظم بنایا اور پھر اس کا نفع حاصل کرنے کی اجازت بھی دیدی یا اسی طرح کسی مشترکہ جائیداد میں سے باقی بھائیوں نے اپنے ایک بھائ یا دو بھائیوں کو اس مشترکہ جائیداد کا منتظم بنایا اور پھر نفع حاصل کرنے کی اجازت بھی دیدی تو کیا اس جائیداد سے حاصل ہونے والا نفع اس منتظم بھائ کا ذاتی نفع شمار ہوگا یا نہیں؟ اور اگر اس نفع سے اس نے کوئ مزید جائیداد بنالی ہو تو کیا اجازت شدہ نفع سے بنائ گئ نئی جائیداد اس کی ذاتی شمار ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ایسے نفع کو دوبارہ اسی مشترکہ جائیداد کو بڑھانے یا درست کرنے پر لگایا ہو تو کیا وہ اس مشترکہ جائیداد میں اپنے حصہ کو بڑھانے والا شمار ہوگا یا وہ نفع مشترکہ جائیداد میں ضم ہوجائے گا؟
(7 ) ترکہ ثابت ہوجانے والی جائیداد ہو یا ایسی مشترکہ جائیداد جس کا نفع ایک بھائ سب کی اجازت سے کچھ عرصہ لیتا رہا ، پھر کسی وقت اختلاف کی وجہ سے بعض شرکاء نے اپنے حصہ اور نفع کا مطالبہ کیا، اس کے باوجود اس بھائ نے حصہ یا نفع کا مطالبہ کرنے والے کو نہ دیا اور اس نفع سے مزید کوئ نئ چیز بنالی، اب مطالبہ کرنے والا بھائ کیا اس نئ چیز کی عین میں شریک ہوگا یا منتظم بھائ اس نفع کا ضامن ہوگا ، اور ضمان کی قیمت کا اعتبار کس وقت کا ہوگا؟
(8 ) اگر کوئی ایک بیٹا یا زیادہ بیٹے اپنے والد کو کسی جائیداد کا شرعی مالک بنادے، پھر والد کے انتقال پر یہ جائیداد جب ترکہ بن جائے تو یہ ہدیہ کرنے والے بھائ اپنے دوسرے بھائیوں یا بہن میں سے کسی کو اس بنا پر ترکہ سے محروم کرسکتے ہیں کہ یہ اس جائیداد کے ہدیہ کرنے میں شریک نہ تھا ۔پھر ہدیہ کرنے والے بھائ اپنے اس ہدیہ کی وجہ سے ترکہ میں اس عین کا یا ویسے ترکہ میں زیادہ حصہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(9) اگر دو یا زیادہ بھائیوں نے کوئ مشترکہ جائیداد خریدی اور اس میں نفع کی نسبت مقرر نہ کی تو کس نسبت سے نفع میں شریک ہوں گے ۔
(10) مشترکہ جائیداد میں نفع کی نیت بھی طے نہ تھی،پھر ایک بھائ اس جائیداد میں محنت کرتا رہا تو آیا اس کو اس محنت کا کوئی بدلہ ملے گا یا نہیں؟ اگر ملے گا تو کتنا ملے گا؟
(11 ) اگر کوئ جائیداد والد کا ترکہ ثابت ہوجائے اور والد کی وفات سے لے کر تقسیم تک جس بھائ نے محنت کی اس سے اس کا بدلہ ملے گا یا نہیں ۔اگر ملے گا تو کتنا ؟اگر محنت کرنے والے بھائ نے اس ترکہ والی جائیداد پے محنت کرکے نفع کمایا اور خود استعمال کرلیا تو اس کا کیا حکم ہے ؟اگر نفع ترکہ کے عین میں لگایا تو کیا حکم ہے ؟اگر ترکہ سے اپنے لئے نیت کرکے کوئ نئ جائیداد بنالی تو کیا حکم ہے؟
(12 ) کسی ایک بھائ کی طرف سے دوسرے بہن بھائیوں کو ہدیہ دئے گئے قیمتی تحائف جن پر مکمل تصرف بھی دیا گیا تھا ، اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا ان قیمتی تحائف کا اعتبار کرکے ترکہ میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟
(13 ) اگر کسی بیٹے نے والد کی حیات میں ایسی جائیداد کا کاروبار پر محنت کی جبکہ مالک شرعی والد تھے تو کیا یہ بیٹا والد کی وفات پر ترکہ میں سے اس محنت کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟
(14) والدہ کو ہدیہ کیا گیا سونا جس پر والدہ کو تصرف کا حق بھی دیا گیا تھا چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ اگر والدہ نے اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا بیٹی کو ہدیہ کردیا تھا تو کیا اولا ہدیہ کرنے والا بیٹا اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے یا نہیں؟
اور کیا بچ جانےوالا سونا والدہ کی وفات کے بعد ترکہ بنے گا یا جس نے والدہ کی خدمت کی اس کو مل جائے گا؟
(15) غیر منقولہ جائیداد ہدیہ کرنے والے شخص کا صرف نیت کرلینا کہ میں نے مالک بھی بنایاہے اور قبضہ اور تصرف کا حق بھی دے دیا ہے، یہ نیت کافی ہے یا جس کو ہدیہ کیا جاتا ہے اس کا اس جائیداد میں عملی تصرف ضروری ہے؟
(16) کوئ شخص دوسرے آدمی کو کاغذوں میں اپنی خوشی سے اپنے ساتھ مالک ظاھر کرتا ہے تو کیا کاغذوں میں کسی کو مالک کے طور پر قبول کرلینا اس شخص کا اپنے غیر کو شرعی مالک قبول کرنے کی دلیل ہے ؟ یا اس شخص کا اس آدمی کو مالک بنانے کی نیت علیحدہ سے کرنے کی ضرورت ہے؟
(17 ) ایک بھائ دوسرے بھائ پر کسی حق کا دعوی کرے اور دوسرا انکار کرے تو شرعا ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا کیا اصول ہے؟
(18) اگر دو یا زیادہ بھائیوں کے درمیان کسی جایئداد کی کل ملکیت پر یا مشترکہ کی صورت میں اپنے اپنے حصوں کے کم یا زیادہ ہونے پر اختلاف ہو جائے جبکہ مہیا کئے گئے ثبوت سے بھی قطعی مالک کا تعین ممکن نہ ہو سکے تو فیصل کس اصول کے تحت کسی کی ملکیت متعین کرے۔
(19) اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بھائیوں میں سے ایک بھائ کسی جائیداد میں شرعی مالک نہیں ہے بلکہ غلطی سے یا غلط طریقہ سے اس کا نام مالکوں میں آگیا ہے، تو اس بھائ کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ مزید یہ کہ اگر اس کا ایسی جائیداد پر قبضہ بھی ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: مولانا یاسر - Date: Dec 27, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
(1) اگر تو زمین پر قبضہ بھی والد صاحب کو دیا تھا۔تو یہ زمین ترکہ شمار ھو گی اوراگر قبضہ نہیں دیا تھا محض کاغذات میں نام کرایا تھا تو یہ بیٹے ہی کی ملکیت ہے۔مدار نام کرنے کے ساتھ قبضہ دینا کا ہے اور قبضہ تخلیہ کا نام ے کہ شے مقبوضہ میں تصرف اپنی مرضی سے کر سکے ۔ہمارے عرف میں زمین پر کاشت کاری کے لئے ہل چلوانا،فصل لگانا،چار دیواری کرنا،گیٹ لگانا،باڑ لگا دینا ،پودے اطراف میں لگا دینا، مکان کی چابیاں سپرد کر دینا، قبضہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اگر بیٹے نے قبضہ دیا تھا تو یہ ترکہ کا حصہ ہے ورنہ بیٹے ہی کی ملکیت ہے۔ چونکہ اس معاملے میں تنازع ہے اس لئے مدعی (بیٹے)پر لازم ہے کہ اپنے دعوی پر گواہ پیش کرے۔اگر گوا ہ نہیں ہوں تو ورثا قسم اٹھائیں۔اگر ورثا قسم اٹھانے سے انکار کریں تو مدعی کے حق میں فیصلہ ہو گا۔
(2) مدار قبضہ ہے ۔اس کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
(3) صرف نام لکھوانے سے مالک نہیں بنے گا۔نیز شرکا کی اجازت اور مرضی کے بغیر ایسا کرنا ناجائز اور حرام ہے۔
(4) ہبہ تام ہونے کے لئے دو شرائط ہیں ۔ایک ہبہ کے الفاظ جو ملکیت پر دلالت کرتے ہوں دوسرا قبضہ دینا۔اگر قبضہ بطور ہبہ نہیں دیاتو ہبہ مکمل نہیں ہوا۔محض خاموشی اختیار کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوا۔
(5) محض نیت سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی ۔قول بھی چاہئے۔جائداد اسی کی ہے جس کا مال ہے جب تک کہ دوسرے کو زبانی یا تحریرا اور عملی طور پر مالک بنا کرقبضہ نہ دیدے ،اس وقت تک دوسرا شخص مالک نہ ہو گا۔
(6) جس کو نفع استعمال کرنے کی ذاتی اجازت دی وہ نفع اس کا ہے جو چاہے کرے اور جو نفع اس نے اپنے طور پر بطور تبرع و احسان کے، جائیداد پر لگایا ،اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔
(7 ) جب تک نفع استعمال کرنے اور لینے کی اجازت تھی تو نفع اسی لینے والے کا تھا۔جب اجازت نہ تھی تو اس کا لینا درست نہیں۔وہ رقم جو بلا اجازت لی وہ رقم واپس کی جائے گی۔
(8) جب ہدیہ کر دیا اور اسکی شرائط پائی گئی تو یہ والد کی ملکیت میں چلا گیا اور والد کے انتقال کے بعد انکا ترکہ ہے جس میں تمام ورثا اپنے شرعی حصص کے بقدر حقدار ہیں۔اب دینے والے کو اپنےشرعی حصہ سے زیادہ حق نہیں کہ اس طرح کی باتیں کریں ۔
(9) یہ شرکت ملک ہے۔شرکاء اپنے مال کے بقدر حصے دار ہوں گے مثلاجس کا ایک تہائی مال تھا وہ ایک تہائی شریک ہو گا اور دوسرا دو تہائی۔
(10) اگر کچھ طے نہیں کیا تھا اور ایک بھائی محنت کرتا رہا تو اگر یہ محنت کاروباری نوعیت کی ہے تو اس پر اجرت مثلی ملے گی۔
(11) اگر کچھ طے نہیں تھا تو اگر یہ محنت کاروباری نوعیت کی ہے تو اس پر اجرت مثلی ملے گی ۔ جو نفع کمایا اور استعمال کیا اگر ورثاء نے اجازت دی تھی تو یہ اسی کا ہے اور اس سے جو بنا یا وہ بھی اسی کا ہے۔
(12) یہ مطالبہ درست نہیں ۔ذی رحم محرم کو ہدیہ دینے کے بعد واپس لینا جائز نہیں۔
(13) نہیں کر سکتا ۔
(14) ایسا مطالبہ درست نہیں جو بچ گیا وہ ترکہ تھا
(15) صرف نیت نہیں بلکہ ایسے لفاظ کی ادائیگی ضروری ہے جو ملکیت کو بتائیں اور قبضہ بھی ضروری ہے ۔نیز ہمارے عرف میں رجسٹری زمین منتقلی کی قانونی شکل ہے اس کے بغیر قانونی طور پرملکیت تسلیم نہیں ہوتی۔
(16) جواب اوپر گزر چکا۔
(17) مدعی گواہ پیش کرے اگر اس کے پاس گواہ نہ ہو تو مدعی علیہ حلف دے ۔
(18) ایسی صورت میں فیصل کو چاہئے کہ صلح کے طریق پر کوئی معاملہ طے کروا دے ۔
(19 ) اس کا حکم بار بار گزر چکا۔
و فی السنن الصغير للبيهقي جلد 2 ص338 رقم 2232
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: «الْإِنْحَالُ مِيرَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضْ»، وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ
و فی السنن الصغير للبيهقي جلد 2 ص338 رقم 2233
2233 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْحِلُونَ أَوْلَادَهُمْ نُحْلًا فَإِذَا مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ مَالِي فِي يَدِي، وَإِذَا مَاتَ هُوَ قَالَ: كُنْتُ نَحَلْتُهُ وَلَدِي، لَا نِحْلَةَ لَكَ إِلَّا نِحْلَةً يَحُوزُهَا الْوَلَدُ دُونَ الْوَالِدِ، فَإِنْ مَاتَ وَرِثَهُ " وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ فَرَأَى أَنَّ الْوَالِدَ يَحُوزُ لِوَلَدِهِ إِذَا كَانُوا صِغَارًا
و فی سنن ابن ماجه جلد 3 ص 465
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ"
و فی سنن ابن ماجه جلد 3 ص 465
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنھما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ"
و فی سنن الترمذی رقم 2132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي طَاوُوسٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعَانِ الحَدِيثَ قَالَ: لاَ يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلاَّ الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي العَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ.
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
قَالَ الشَّافِعِيُّ: لاَ يَحِلُّ لِمَنْ وَهَبَ هِبَةً أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الوَالِدَ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيمَا أَعْطَى وَلَدَهُ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الحَدِيثِ.

و فی سنن الکبری للبیھقی جلد 6 ص281 رقم 11949
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا , وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ , أنبأ مُحَمَّدٌ , أنبأ ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا، فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ: مَالِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا، وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً لَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نَحَلَهَا حَتَّى تَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَارِثِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ
و فی السنن الكبرى للبيهقي، جلد 6 ص281 رقم 11951
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ , ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الَأَنْحَالُ مِيرَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضْ " وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ قَالُوا: لَا تَجُوزُ صَدَقَةٌ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَشُرَيْحٍ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يُجِيزَانِهَا حَتَّى تُقْبَضَ۔
و فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، جلد 3 ص313
الشِّرْكَةَ عَلَى ضَرْبَيْنِ شِرْكَةِ مِلْكٍ وَشِرْكَةِ عَقْدٍ عَلَى مَا نُبَيِّنُ فِي أَثْنَاءِ الْبَحْثِ قَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - (شِرْكَةُ الْمِلْكِ أَنْ يَمْلِكَ اثْنَانِ عَيْنًا إرْثًا أَوْ شِرَاءً) وَكَذَا اسْتِيلَاءً أَوْ اتِّهَابًا أَوْ وَوَصِيَّةً أَوْ اخْتِلَاطُ مَالٍ بِغَيْرِ صُنْعٍ أَوْ بِصُنْعِهِمَا بِحَيْثُ لَا يَتَمَيَّزُ أَوْ يَعْسُرُ كَالْجِنْسِ بِالْجِنْسِ أَوْ الْمَائِعِ بِالْمَائِعِ أَوْ خَلْطُ الْحِنْطَةِ بِالشَّعِيرِ وَهَذَا النَّوْعُ مِنْ الشِّرْكَةِ كَانَ وَاقِعًا فِي زَمَنِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - كَالشِّرْكَةِ فِي الْمَوَارِيثِ وَالْغَنَائِمِ وَنَحْوِهِمَا
قَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - (وَكُلٌّ أَجْنَبِيٌّ فِي قِسْطِ صَاحِبِهِ) أَيْ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ كَمَا لِغَيْرِهِ مِنْ الْأَجَانِبِ وَإِنْ بَاعَ نَصِيبَهُ مِنْ شَرِيكِهِ جَازَ كَيْفَمَا كَانَ لِوِلَايَتِهِ عَلَى مَالِهِ وَكَذَا إذَا بَاعَهُ مِنْ غَيْرِهِ لِمَا ذَكَرْنَا إلَّا فِي صُورَةِ الْخَلْطِ وَالِاخْتِلَاطِ فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يَبِيعَهُ مِنْ أَجْنَبِيٍّ إلَّا بِإِذْنِ شَرِيكِهِ لِأَنَّ خَلْطَ الشَّيْءِ بِمَا لَا يَتَمَيَّزُ اسْتِهْلَاكٌ وَهُوَ سَبَبٌ لِزَوَالِ الْمِلْكِ عَنْ الْمَخْلُوطِ إلَى الْخَالِطِ لَوْ كَانَ عَلَى سَبِيلِ التَّعَدِّي فَإِذَا حَصَلَ مِنْ غَيْرِ تَعَدٍّ فَقَدْ انْعَقَدَ سَبَبُ الزَّوَالِ مِنْ وَجْهٍ فَأَوْرَثَ شُبْهَةَ زَوَالِ نَصِيبِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إلَى شَرِيكِهِ فِي حَقِّ الْبَيْعِ مِنْ الْأَجْنَبِيِّ وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ نَصِيبِهِ إلَّا بِرِضَا شَرِيكِهِ وَأَمَّا فِيمَا عَدَاهُ مِلْكُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَائِمٌ مِنْ وَجْهٍ لِانْعِدَامِ سَبَبِ الزَّوَالِ فَيُطْلِقُ لَهُ التَّصَرُّفَ وَلِأَنَّ مِلْكَ كُلِّ وَاحِدٍ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ عَلَى حِيَالِهِ لِأَنَّ كُلَّ حَبَّةٍ مُشَارٍ إلَيْهَا لَيْسَتْ بِمُشْتَرَكَةٍ وَإِنَّمَا هِيَ مِلْكُ أَحَدِهِمَا بِعَيْنِهِ إلَّا أَنَّهُ لَا يُمْكِنُ التَّمْيِيزُ بَيْنَ مِلْكَيْهِمَا فَلَا يَقْدِرُ عَلَى تَسْلِيمِهِ وَالْعَجْزُ عَنْ التَّسْلِيمِ مَانِعٌ مِنْ الْجَوَازِ بِخِلَافِ غَيْرِ هَذِهِ الصُّورَةِ مِنْ أَنْوَاعِ الشِّرْكَةِ لِأَنَّ مِلْكَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَابِتٌ فِي كُلِّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْعَيْنِ وَهُوَ مَعْلُومٌ مَقْدُورُ التَّسْلِيمِ فَيَجُوزُ۔
و فی ,ملتقى الأبحر ,ص 492
الْمجْلس بِلَا إِذن صَحَّ، وَبعده لَا بُد من الْإِذْن وتنعقد بوهبت ونحلت وَأعْطيت وأطعمتك
و فی الهندية، جلد 4 ص325
قَالَ مُحَمَّدٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - مَنْ دَفَعَ إلَى آخَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ مُضَارَبَةً بِالنِّصْفِ فَرَبِحَ فِيهَا أَلْفًا، فَقَالَ لِرَبِّ الْمَالِ: قَدْ دَفَعْتُ إلَيْكَ رَأْسَ الْمَالِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَبَقِيَ هَذَا الْأَلْفُ رِبْحًا، وَقَالَ رَبُّ الْمَالِ: لَمْ أَقْبِضْ مِنْكَ شَيْئًا، فَالْقَوْلُ قَوْلُ رَبِّ الْمَالِ مَعَ يَمِينِهِ فَيَحْلِفُ بِاَللَّهِ مَا قَبَضْتُ رَأْسَ الْمَالِ مِنْ الْمُضَارِبِ فَإِذَا حَلَفَ أَخَذَ الْأَلْفَ الْبَاقِيَ بِرَأْسِ مَالِهِ وَلَا يَنْتَظِرُ إلَى اسْتِحْلَافِ الْمُضَارِبِ ثُمَّ يُسْتَحْلَفُ الْمُضَارِبُ بِاَللَّهِ مَا اسْتَهْلَكْتُهُ وَلَا ضَيَّعْتُهُ، فَإِنْ حَلَفَ بَرِئَ عَنْ الضَّمَانِ وَلَمْ يَثْبُتْ قَبْضُ رَبِّ الْمَالِ، وَإِنْ نَكَلَ الْمُضَارِبُ عَنْ الْيَمِينِ فَقَدْ أَقَرَّ أَنَّ رَأْسَ الْمَالِ كَانَ عِنْدَهُ وَقَدْ جَحَدَهُ فَصَارَ ضَامِنًا لِرَأْسِ الْمَالِ وَظَهَرَ أَنَّ مَالَ الْمُضَارَبَةِ أَلْفٌ دَيْنٌ وَأَلْفٌ عَيْنٌ فَيَأْخُذُ رَبُّ الْمَالِ الْأَلْفَ الْعَيْنَ بِرَأْسِ مَالِهِ فَيَكُونُ الْأَلْفُ الدَّيْنُ عَلَى الْمُضَارِبِ رِبْحًا فَيَرْجِعُ رَبُّ الْمَالِ عَلَى الْمُضَارِبِ بِخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ حِصَّتِهِ مِنْ الرِّبْحِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ
و فی الھندیہ جلد 5 ص 124
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَفْسِيرِ الْغَصْبِ وَشَرْطِهِ وَحُكْمِهِ وَمَا يَلْحَقُ بِذَلِكَ مِنْ بَيَانِ الْمِثْلِيَّاتِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ)
أَمَّا تَفْسِيرُهُ شَرْعًا فَهُوَ أَخْذُ مَالٍ مُتَقَوِّمٍ مُحْتَرَمٍ بِغَيْرِ إذْنِ الْمَالِكِ عَلَى وَجْهٍ يُزِيلُ يَدَ الْمَالِكِ إنْ كَانَ فِي يَدِهِ أَوْ يَقْصُرُ يَدَهُ إنْ لَمْ يَكُنْ فِي يَدِهِ كَذَا فِي الْمُحِيطِ.
وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مِلْكِهِ لَمْ يَضْمَنْ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِغَصْبٍ وَمَنْ مَنَعَ مَالِكَهُ مِنْ حِفْظِ مَالَهُ حَتَّى هَلَكَ لَمْ يَضْمَنْ كَذَا فِي الْيَنَابِيعِ.
وَأَمَّا شَرْطُهُ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَوْنُ الْمَأْخُوذِ مَنْقُولًا وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - الْآخَرِ حَتَّى إنَّ غَصْبَ الْعَقَارِ لَا يَكُونُ مُوجِبًا لِلضَّمَانِ عِنْدَهُمَا كَذَا فِي النِّهَايَةِ.
وَأَمَّا حُكْمُهُ فَالْإِثْمُ وَالْمَغْرَمُ عِنْدَ الْعِلْمِ وَإِنْ كَانَ بِدُونِ الْعِلْمِ بِأَنْ ظَنَّ أَنَّ الْمَأْخُوذَ مَالُهُ أَوْ اشْتَرَى عَيْنًا ثُمَّ ظَهَرَ اسْتِحْقَاقُهُ فَالْمَغْرَمُ وَيَجِبُ عَلَى الْغَاصِبِ رَدُّ عَيْنِهِ عَلَى الْمَالِكِ وَإِنْ عَجَزَ عَنْ رَدِّ عَيْنِهِ بِهَلَاكِهِ فِي يَدِهِ بِفِعْلِهِ أَوْ بِغَيْرِ فِعْلِهِ فَعَلَيْهِ مِثْلُهُ إنْ كَانَ مِثْلِيًّا كَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ فَإِنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى مِثْلِهِ بِالِانْقِطَاعِ عَنْ أَيْدِي النَّاسِ فَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ يَوْمَ الْخُصُومَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -: يَوْمَ الْغَصْبِ وَقَالَ مُحَمَّدٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -: يَوْمَ الِانْقِطَاعِ كَذَا فِي الْكَافِي.
و فیہ ایضا۔
وَلَوْ غَصَبَ فُلُوسًا فَصَاغَ مِنْهَا إنَاءً ضَمِنَ الْفُلُوسَ؛ لِأَنَّهُ أَخْرَجَهَا عَنْ كَوْنِهَا ثَمَنًا كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ.
و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، جلد 5 ص181
رَجُلٌ اشْتَرَى حِنْطَةً وَطَحَنَهَا فَأَشْرَكَ فِي طَحْنِهَا رَجُلًا فَإِنْ طَحَنَهَا بِنَفْسِهِ فَعَلَى الَّذِي أَشْرَكَهُ فِيهِ نِصْفُ الثَّمَنِ لَا غَيْرُ وَإِنْ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا لِيَطْحَنَهَا فَعَلَى الَّذِي أَشْرَكَهُ نِصْفُ الثَّمَنِ وَنِصْفُ أَجْرِ الطَّحْنِ؛ لِأَنَّهُ يَجْعَلُهُ شَرِيكًا فِيهِ بِنِصْفِ مَا قَامَ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَامَ عَلَيْهِ بِهَذَا الْقَدْرِ فَيَقْضِي عَلَيْهِ بِنِصْفِهِ اهـ.
وَلَا يَصِحُّ أَنْ يُشْرِكَ فِيمَا اشْتَرَاهُ قَبْلَ الْقَبْضِ وَإِنْ كَانَ بَعْدَهُ فَهُوَ بَيْنَهُمَا عَلَى السَّوَاءِ وَإِنْ أَشْرَكَ فِيهِ اثْنَيْنِ كَانَ بَيْنَهُمْ أَثْلَاثًا، وَإِذَا لَمْ يَعْرِفْ الدَّخِيلُ مِقْدَارَ الثَّمَنِ جَازَ وَلَهُ الْخِيَارُ، وَلَوْ قَالَ لَك شَرِكَةٌ يَا فُلَانُ فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ وَأَبْطَلَهُ مُحَمَّدٌ قَالَ أَشْرَكْت فُلَانًا فِي نِصْفِ هَذَا الْعَبْدِ فَلَهُ الرُّبُعُ قِيَاسًا وَالنِّصْفُ اسْتِحْسَانًا، وَلَوْ اشْتَرَيَا عَبْدًا فَأَشْرَكَا فِيهِ آخَرَ فَإِنْ أَشْرَكَاهُ عَلَى التَّعَاقُبِ فَلَهُ النِّصْفُ وَلَهُمَا النِّصْفُ وَإِنْ أَشْرَكَاهُ مَعًا فَلَهُ الثُّلُثُ اسْتِحْسَانًا؛ لِأَنَّ الْإِشْرَاكَ يَقْتَضِي الْمُسَاوَاةَ وَإِنْ أَشْرَكَهُ أَحَدُهُمَا فِي نَصِيبِهِ وَنَصِيبِ صَاحِبِهِ فَإِنْ أَجَازَ صَاحِبُهُ فَلَهُ النِّصْفُ وَلِلشَّرِيكَيْنِ النِّصْفُ وَتَمَامُهُ فِي الْمُحِيطِ مِنْ بَابِ مَنْ يَشْتَرِي شَيْئًا فَيُشْرِكُ فِيهِ غَيْرَهُ
و قال ابن عابدین فی منحة الخالق
قَوْلُهُ: فَأَشْرَكَ فِي طَحْنِهَا) مَصْدَرٌ بِمَعْنَى اسْمِ الْمَفْعُولِ أَيْ مَطْحُونِهَا.
و فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ,جلد 1 ص715،714،716
هِيَ) أَيْ الشَّرِكَةُ (ضَرْبَانِ شَرِكَةُ مِلْكٍ وَشَرِكَةُ عَقْدٍ فَالْأُولَى) أَيْ شَرِكَةُ الْمِلْكِ (أَنْ يَمْلِكَ اثْنَانِ) أَوْ أَكْثَرُ (عَيْنًا إرْثًا أَوْ شِرَاءً أَوْ اتِّهَابًا وَاسْتِيلَاءً) أَيْ أَخْذًا بِالْقَهْرِ مِنْ مَالِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(أَوْ اخْتَلَطَ مَالُهُمَا) بِغَيْرِ صُنْعِهِمَا مَعْطُوفٌ عَلَى قَوْلِهِ يَمْلِكُ (بِحَيْثُ لَا يَتَمَيَّزُ) أَحَدُ الْمَالَيْنِ عَلَى الْآخَرِ أَوْ يَعْسُرُ تَمْيِيزُهُ (أَوْ خَلَطَاهُ) بِصُنُعِهِمَا خَلْطًا يَمْتَنِعُ التَّمَيُّزُ كَالْبُرِّ مَعَ الْبُرِّ أَوْ يَعْسُرُ كَالْبُرِّ مَعَ الشَّعِيرِ، وَالْحَاصِلُ أَنَّهَا نَوْعَانِ جَبْرِيَّةٌ وَاخْتِيَارِيَّةٌ فَأَشَارَ إلَى الْجَبْرِيَّةِ بِالْإِرْثِ فَإِنَّ مِنْ الْجَبْرِيَّةِ الشَّرِكَةُ فِي الْحِفْظِ كَمَا إذَا هَبَّتْ الرِّيحُ بِثَوْبٍ فِي دَارٍ بَيْنَهُمَا فَإِنَّهُمَا شَرِيكَانِ فِي الْحِفْظِ كَمَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ وَإِلَى الِاخْتِيَارِيَّةِ بِشِرَاءٍ وَمِنْ الِاخْتِيَارِيَّةِ أَنْ يُوصَى لَهُمَا بِمَالٍ فَيَقْبَلَانِ فَاقْتَصَرَ عَلَى الْعَيْنِ قَالَ عَيْنًا فَأَخْرَجَ الدَّيْنَ فَقِيلَ إنَّ الشَّرِكَةَ فِيهِ مَجَازٌ لِأَنَّهُ وَصْفٌ شَرْعِيٌّ لَا يُمْلَكُ وَقَدْ يُقَالُ بَلْ يُمْلَكُ شَرْعًا وَقَدْ جَازَتْ هِبَتُهُ مِمَّنْ عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَصَحِيحٌ فِي الْفَتْحِ فَعَلَى هَذَا لَوْ قَالَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ لَكَانَ أَشْمَلَ مِنْ الدَّيْنِ وَالشَّرِكَةِ فِي الْحِفْظِ سَوَاءٌ كَانَ الْمَالِكُ اثْنَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ تَدَبَّرْ.
(وَكُلٌّ مِنْهُمَا) أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ الشَّرِيكَيْنِ أَوْ الشُّرَكَاءِ شَرِكَةَ مِلْكٍ (أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ الْآخَرِ) حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ التَّصَرُّفُ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِ الْآخَرِ كَغَيْرِ الشَّرِيكِ لِعَدَمِ تَضَمُّنِهَا الْوَكَالَةَ.
(وَيَجُوزُ بَيْعُ نَصِيبِهِ مِنْ شَرِيكِهِ فِي جَمِيعِ الصُّوَرِ) الْمَذْكُورَةِ لِوِلَايَتِهِ عَلَى مَالِهِ (وَ) بَيْعُهُ (مِنْ غَيْرِهِ) أَيْ غَيْرِ الشَّرِيكِ (بِغَيْرِ إذْنِهِ فِيمَا عَدَا الْخَلْطِ) أَيْ إلَّا فِي صُورَةِ الْخَلْطِ (وَالِاخْتِلَاطِ فَلَا يَجُوزُ) بَيْعُهُ مِنْ غَيْرِ إذْنِ شَرِيكِهِ فِي هَاتَيْنِ الصُّورَتَيْنِ (بِلَا إذْنِهِ) وَالْفَرْقُ أَنَّ الشَّرِكَةَ إذَا كَانَتْ بَيْنَهُمَا مِنْ الِابْتِدَاءِ بِأَنْ اشْتَرَيَا
حِنْطَةً أَوْ وَرِثَاهَا كَانَتْ كُلُّ حَبَّةٍ مُشْتَرَكَةً بَيْنَهُمَا فَبَيْعُ كُلٍّ مِنْهُمَا نَصِيبَهُ شَايِعَا جَائِزٌ مِنْ الشَّرِيكِ وَالْأَجْنَبِيِّ بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَتْ بِالْخَلْطِ وَالِاخْتِلَاطِ لِأَنَّ كُلَّ حَبَّةٍ مَمْلُوكَةٌ لِأَحَدِهِمَا بِجَمِيعِ أَجْزَائِهَا لَيْسَ لِلْآخَرِ فِيهَا شَرِكَةٌ فَإِذَا بَاعَ نَصِيبَهُ مِنْ غَيْرِ إذْنِ الشَّرِيكِ لَا يَقْدِرُ عَلَى تَسْلِيمِهِ إلَّا مَخْلُوطًا بِنَصِيبِ الشَّرِيكِ فَيَتَوَقَّفُ عَلَى إذْنِهِ بِخِلَافِ بَيْعِهِ مِنْ الشَّرِيكِ لِلْقُدْرَةِ عَلَى التَّسْلِيمِ
وفی الهندية، جلد 5 ،ص125
وَإِنْ غَصَبَ فِضَّةً أَوْ ذَهَبًا فَضَرَبَهَا دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ أَوْ آنِيَةً لَمْ يَزُلْ مِلْكُ مَالِكِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - فَيَأْخُذَهَا وَلَا شَيْءَ لِلْغَاصِبِ مِنْهُ وَلَا يُعْطِيهِ بِعَمَلِهِ شَيْئًا وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى - لَا سَبِيلَ لِلْمَغْصُوبِ مِنْهُ عَلَى الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ الْمَضْرُوبَةِ وَعَلَيْهِ مِثْلُ الْفِضَّةِ الَّتِي غَصَبَهَا وَمَلَكَهَا الْغَاصِبُ قَالَ الْخُجَنْدِيُّ وَلَوْ غَصَبَ فِضَّةً فَصَاغَهَا حُلِيًّا أَوْ ذَهَبًا فَصَاغَهُ حُلِيًّا فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَسْتَرِدَّهُ وَلَا يَضْمَنُ لِلْغَاصِبِ شَيْئًا لِأَجْلِ الصِّيَاغَةِ إلَّا إذَا جَعَلَ الْفِضَّةَ أَوْ الذَّهَبَ وَصْفًا مِنْ أَوْصَافِ مَالِهِ بِحَيْثُ يَكُونُ فِي نَزْعِهِ مَضَرَّةٌ كَمَا إذَا جَعَلَهُ عُرْوَةً مُزَادَةً أَوْ صَفَائِحَ فِي سَقْفٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ تَنْقَطِعُ يَدُ صَاحِبِهَا عَنْهَا وَيَضْمَنُ الْغَاصِبُ مِثْلَهَا وَقْتَ الْغَصْبِ وَأَمَّا إذَا سَبَكَ الْفِضَّةَ أَوْ الذَّهَبَ وَلَمْ يَصُغْهُمَا وَلَمْ يَضْرِبْهُمَا دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ بَلْ جَعَلَهُمَا صَفَائِحَ مُطَوَّلَةٍ أَوْ مُدَوَّرَةٍ أَوْ مُرَبَّعَةٍ لَمْ تَنْقَطِعْ يَدُ صَاحِبِهَا عَنْهَا بِالْإِجْمَاعِ كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ.
وَإِنْ غَصَبَ دَرَاهِمَ وَسَبَكَهَا وَلَمْ يَضْرِبْ مِنْهَا شَيْئًا فَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمَالِكِ بِلَا خِلَافٍ كَذَا فِي الْمُحِيطِ.
وَلَوْ غَصَبَ فُلُوسًا فَصَاغَ مِنْهَا إنَاءً ضَمِنَ الْفُلُوسَ؛ لِأَنَّهُ أَخْرَجَهَا عَنْ كَوْنِهَا ثَمَنًا كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ.
و فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 7 ص155
وَلَوْ اشْتَرَى بِالدَّرَاهِمِ الْمَغْصُوبَةِ شَيْئًا هَلْ يَحِلُّ لَهُ الِانْتِفَاعُ بِهِ أَوْ يَلْزَمُهُ التَّصَدُّقُ؟ .
ذَكَرَ الْكَرْخِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَجَعَلَ ذَلِكَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ: إمَّا أَنْ يُشِيرَ إلَيْهَا وَيَنْقُدَ مِنْهَا، وَإِمَّا أَنْ يُشِيرَ إلَيْهَا وَيَنْقُدَ مِنْ غَيْرِهَا، وَإِمَّا أَنْ يُشِيرَ إلَى غَيْرِهَا وَيَنْقُدَ مِنْهَا، وَإِمَّا أَنْ يُطْلِقَ إطْلَاقًا وَيَنْقُدَ مِنْهَا، وَإِذَا ثَبَتَ الطَّيِّبُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا، إلَّا فِي وَجْهٍ وَاحِدٍ وَهُوَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الْإِشَارَةِ إلَيْهَا وَالنَّقْدِ مِنْهَا، وَذَكَرَ أَبُو نَصْرٍ الصَّفَّارُ وَالْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُمَا اللَّهُ أَنَّهُ يَطِيبُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا، وَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْكَافُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - أَنَّهُ لَا يَطِيبُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا وَهُوَ الصَّحِيحُ.
(وَجْهُ) قَوْلِ أَبِي نَصْرٍ وَأَبِي اللَّيْثِ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ الْوَاجِبَ فِي ذِمَّةِ الْمُشْتَرِي دَرَاهِمُ مُطَلَّقَةٌ، وَالْمَنْقُودَةُ بَدَلٌ عَمَّا فِي الذِّمَّةِ، أَمَّا عِنْدَ عَدَمِ الْإِشَارَةِ فَظَاهِرٌ، وَكَذَا عِنْدَ الْإِشَارَةِ؛ لِأَنَّ الْإِشَارَةَ إلَى الدَّرَاهِمِ لَا تُفِيدُ التَّعْيِينَ، فَالْتَحَقَتْ الْإِشَارَةُ إلَيْهَا بِالْعَدَمِ، فَكَانَ الْوَاجِبُ فِي ذِمَّتِهِ دَرَاهِمَ مُطْلَقَةً، وَالدَّرَاهِمُ الْمَنْقُودَةُ بَدَلًا عَنْهَا، فَلَا يَخْبُثُ الْمُشْتَرَى، وَالْكَرْخِيُّ كَذَلِكَ يَقُولُ: إذَا لَمْ تَتَأَكَّدْ الْإِشَارَةُ بِمُؤَكَّدٍ وَهُوَ النَّقْدُ مِنْهَا فَإِذَا تَأَكَّدَتْ بِالنَّقْدِ مِنْهَا تَعَيَّنَ الْمُشَارُ إلَيْهِ، فَكَانَ الْمَنْقُودُ بَدَلَ الْمُشْتَرَى، فَكَانَ خَبِيثًا.
(وَجْهُ) قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ اسْتَفَادَ بِالْحَرَامِ مِلْكًا مِنْ طَرِيقِ الْحَقِيقَةِ، أَوْ الشُّبْهَةِ فَيَثْبُتُ الْخَبَثُ، وَهَذَا لِأَنَّهُ إنْ أَشَارَ إلَى الدَّرَاهِمِ الْمَغْصُوبَةِ فَالْمُشَارُ إلَيْهِ إنْ كَانَ لَا يَتَعَيَّنُ فِي حَقِّ الِاسْتِحْقَاقِ يَتَعَيَّنُ فِي حَقِّ جَوَازِ الْعَقْدِ بِمَعْرِفَةِ جِنْسِ النَّقْدِ وَقَدْرِهِ، فَكَانَ الْمَنْقُودُ بَدَلَ الْمُشْتَرَى مِنْ وَجْهٍ نُقِدَ مِنْهَا، أَوْ مِنْ غَيْرِهَا.
وَإِنْ لَمْ يُشِرْ إلَيْهَا وَنَقَدَ مِنْهَا، فَقَدْ اسْتَفَادَ بِذَلِكَ سَلَامَةَ الْمُشْتَرَى فَتَمَكَّنَتْ الشُّبْهَةُ فَيَخْبُثُ الرِّبْحُ، وَإِطْلَاقُ الْجَوَابِ فِي الْجَامِعَيْنِ وَالْمُضَارَبَةُ دَلِيلُ صِحَّةِ هَذَا الْقَوْلِ، وَمِنْ مَشَايِخِنَا مَنْ اخْتَارَ الْفَتْوَى فِي زَمَانِنَا بِقَوْلِ الْكَرْخِيِّ تَيْسِيرًا لِلْأَمْرِ عَلَى النَّاسِ لِازْدِحَامِ الْحَرَامِ، وَجَوَابُ الْكُتُبِ أَقْرَبُ إلَى التَّنَزُّهِ وَالِاحْتِيَاطِ، وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَلِأَنَّ دَرَاهِمَ الْغَصْبِ مُسْتَحَقَّةُ الرَّدِّ عَلَى صَاحِبِهَا، وَعِنْدَ الِاسْتِحْقَاقِ يَنْفَسِخُ الْعَقْدُ مِنْ الْأَصْلِ، فَتُبَيِّنَ أَنَّ الْمُشْتَرَى كَانَ مَقْبُوضًا بِعَقْدٍ فَاسِدٍ، فَلَمْ يَحِلَّ الِانْتِفَاعُ بِهِ،

وقال عبد الرحمن شيخي زاده، مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، جلد 6 ص 459
(وَإِنْ تَصَرَّفَ فِي الْغَصْبِ أَوْ الْوَدِيعَةِ فَرَبِحَ وَهُمَا يَتَعَيَّنَانِ بِالتَّعْيِينِ) كَالْعُرُوضِ وَنَحْوِهَا (تَصَدَّقَ بِالرِّبْحِ) وَلَا يَطِيبُ لَهُ عِنْدَ الطَّرَفَيْنِ (خِلَافًا لَهُ) أَيْ لِأَبِي يُوسُفَ (أَيْضًا) أَيْ كَخِلَافِهِ فِي الْمَسْأَلَةِ الَّتِي قَبْلَهَا.
(وَإِنْ كَانَا) أَيْ الْمَغْصُوبُ أَوْ الْوَدِيعَةُ (لَا يَتَعَيَّنَانِ) كَالنَّقْدَيْنِ فَقَدْ قَالَ الْكَرْخِيُّ عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ ذَكَرَهَا الْمُصَنِّفُ بِقَوْلِهِ (فَإِنْ أَشَارَ) الْمُتَصَرِّفُ (إلَيْهِمَا) أَيْ إلَى دَرَاهِمِ الْغَصْبِ أَوْ الْوَدِيعَةِ (وَنَقَدَهُمَا فَكَذَلِكَ) لَا يَطِيبُ لَهُ الرِّبْحُ وَيَتَصَدَّقُ بِهِ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لَهُ.
(وَإِنْ أَشَارَ إلَى غَيْرِهِمَا وَنَقَدَهُمَا) أَيْ دَرَاهِمَ الْغَصْبِ أَوْ الْوَدِيعَةِ (أَوْ أَشَارَ إلَيْهِمَا وَنَقَدَ غَيْرَهُمَا أَوْ أَطْلَقَ) إطْلَاقًا وَلَمْ يُشِرْ إلَيْهِمَا وَلَا إلَى غَيْرِهِمَا بَلْ قَالَ اشْتَرَيْت بِدِرْهَمٍ.
(وَ) لَكِنْ (نَقَدَهُمَا) أَيْ دَرَاهِمَ الْغَصْبِ أَوْ الْوَدِيعَةِ (طَابَ لَهُ الرِّبْحُ اتِّفَاقًا قِيلَ وَبِهِ) أَيْ بِعَدَمِ الطِّيبِ فِي الْأُولَى وَبِالطِّيبِ فِي الصُّوَرِ الثَّلَاثِ الْبَاقِيَةِ (يُفْتَى) قَائِلُهُ صَاحِبُ الْوِقَايَةِ مُوَافِقًا لِمَا فِي الْمُحِيطِ حَيْثُ قَالَ الْفَتْوَى عَلَى قَوْلِ الْكَرْخِيِّ لِكَثْرَةِ الْحَرَامِ دَفْعًا لِلْحَرَجِ عَنْ النَّاسِ فِي هَذَا الزَّمَانِ وَهَذَا قَوْلُ الصَّدْرِ الشَّهِيدِ.
وَفِي الدُّرَرِ وَبِهِ كَانَ يُفْتِي الْإِمَامُ أَبُو اللَّيْثِ (وَالْمُخْتَارُ) عِنْدَ مَشَايِخِنَا (أَنَّهُ لَا طِيبَ مُطْلَقًا) يَعْنِي فِي الصُّوَرِ كُلِّهَا لِإِطْلَاقِ الْمَبْسُوطِ وَالْجَامِعَيْنِ
و فی الفتاوى الهندية، جلد 2 ص 301،302
الشَّرِكَةُ نَوْعَانِ شَرِكَةُ مِلْكٍ وَهِيَ أَنْ يَتَمَلَّكَ رَجُلَانِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ عَقْدِ الشَّرِكَةِ بَيْنَهُمَا، كَذَا فِي التَّهْذِيبِ وَشَرِكَةُ عَقْدٍ وَهِيَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا شَارَكْتُكَ فِي كَذَا وَيَقُولُ الْآخَرُ قَبِلْتُ، هَكَذَا فِي كَنْزِ الدَّقَائِقِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
أَمَّا شَرِكَةُ الْعُقُودِ فَأَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْمَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ وَكُلُّ ذَلِكَ عَلَى وَجْهَيْنِ: مُفَاوَضَةٌ وَعِنَانٌ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. وَرُكْنُهَا الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ وَهُوَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا: شَارَكْتُكَ فِي كَذَا وَكَذَا وَيَقُولُ الْآخَرُ: قَبِلْتُ، كَذَا فِي الْكَافِي، وَيُنْدَبُ الْإِشْهَادُ عَلَيْهَا، كَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ. وَشَرْطُ جَوَازِ هَذِهِ
الشَّرِكَاتِ كَوْنُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ عَقْدَ الشَّرِكَةِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَأَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ مَعْلُومَ الْقَدْرِ، فَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا تَفْسُدُ الشَّرِكَةُ وَأَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ جُزْءًا شَائِعًا فِي الْجُمْلَةِ لَا مُعَيَّنًا فَإِنْ عَيَّنَا عَشَرَةً أَوْ مِائَةً أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ كَانَتْ الشَّرِكَةُ فَاسِدَةً، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. وَحُكْمُ شَرِكَةِ الْعَقْدِ صَيْرُورَةُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ وَمَا يُسْتَفَادُ بِهِ مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ. أَمَّا الشَّرِكَةُ بِالْمَالِ فَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي رَأْسِ مَالٍ فَيَقُولَا اشْتَرَكْنَا فِيهِ عَلَى أَنْ نَشْتَرِيَ وَنَبِيعَ مَعًا أَوْ شَتَّى أَوْ أَطْلَقَا عَلَى أَنَّ مَا رَزَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ بَيْنَنَا عَلَى شَرْطِ كَذَا أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا ذَلِكَ وَيَقُولُ الْآخَرُ نَعَمْ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ۔
و فی الفتاوى الهندية، جلد 2 ص335
وَكُلُّ شَرِكَةٍ فَاسِدَةٍ فَالرِّبْحُ فِيهَا عَلَى قَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ كَأَلْفٍ لِأَحَدِهِمَا مَعَ أَلْفَيْنِ فَالرِّبْحُ بَيْنَهُمَا أَثْلَاثًا، وَإِنْ كَانَا شَرَطَا الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ بَطَلَ ذَلِكَ الشَّرْطُ، وَلَوْ كَانَ لِكُلٍّ مِثْلُ مَا لِلْآخَرِ وَشَرَطَا الرِّبْحَ أَثْلَاثًا بَطَلَ شَرْطُ التَّفَاضُلِ وَانْقَسَمَ نِصْفَيْنِ بَيْنَهُمَا؛ لِأَنَّ الرِّبْحَ فِي وُجُودِهِ تَابِعٌ لِلْمَالِ، كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ
وفی الدر المختار مع رد المحتارجلد 5 ص646
وَشَرِكَةٌ إنْ رَبِحَ وَغَصْبٌ إنْ خَالَفَ وَإِنْ أَجَازَ) رَبُّ الْمَالِ (بَعْدَهُ) لِصَيْرُورَتِهِ غَاصِبًا بِالْمُخَالَفَةِ (وَإِجَارَةٌ فَاسِدَةٌ إنْ فَسَدَتْ فَلَا رِبْحَ) لِلْمُضَارِبِ (حِينَئِذٍ بَلْ لَهُ أَجْرُ) مِثْلِ (عَمَلِهِ مُطْلَقًا) رَبِحَ أَوْ لَا (بِلَا زِيَادَةٍ عَلَى الْمَشْرُوطِ) خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ وَالثَّلَاثَةِ۔
واللہ اعلم بالصواب الجواب صحیح
کتبہ محمد حماد فضل مفتی زکریا مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طٰہٰ 24ربیع الثانی 1441بمطابق22دسمبر2019

مفتی ضیاء الدین
مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور



Share:

Related Question:

Categeories