25-Sep-2022 /28- Ṣafar-1444

Question # 8016


لیکوریا کی مریضہ کا موزوں پرمسح کا حکم۔

لیکوریا کا مسئلہ ہے تو کیا موزوں پر مسح کر سکتی ہوں ؟؟
ام حنظلہ

Category: Purity and Impurity (احكام الطهارة) / Menses - Asked By: ام حنظلہ - Date: Dec 03, 2019



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
اگر لیکوریا کی وجہ سے معذور شرعی نہیں ھیں تو موزوں پر مسح کی شرائط کے مطابق،ان پر مسح کر سکتی ھیں۔
اگر معذور شرعی ھوں تو ایک نماز کے وقت کے اندر تو مسح کرسکتی ھیں ۔مگر اگلی نماز کے وقت میں وضو کے لئے پاوں دھونے پڑیں گے.معذور کا وضو جیسے نماز کا وقت جانے سے ٹوٹ جاتا ہے ویسے ہى اس کا مسح بھى باطل ہو جاتا ہے اور اس کو موزے اتار کر پیروں کا دھونا واجب ہے. ہاں اگر اس کا مرض وضو کرنے اور موزے پہننے کى حالت میں نہ پایا جائے تو وہ بھى مثل اور صحیح آدمیوں کے سمجھا جائے گا. 
لمافی الھندیۃ جلد 1 ص34

المعذور اذا کان عذرہ غیر موجود وقت الوضوء ولبس الخفین یجوز لہ المسح الی المدّۃ کالاصحاء بخلاف ما اذا وجد العذر مقارنا للوضوء اوللبس احدھما یجوز المسح فی الوقت لاخارجہ ھکذا فی البحر الرائق۔

وفی الشامیۃ جلد 1 ص271

ثم انہ لا یخلواما ان یکون العذر منقطعاً وقت الوضوء واللبس معاً او موجوداً فیھما، او منقطعاً وقت الوضوء موجوداً وقت اللبس او بالعکس فھی رباعیۃ، ففی الاوّل حکمہ کالاصحاء لوجود اللبس علی طھارۃ کاملۃ فمنع سرایۃ الحدث للقدمین، وفی الثلاثۃ الباقیۃ یمسح فی الوقت فقط، فاذا خرج نزع وغسل۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد حماد فضل
نائب مفتی دارالافتا جامعہ طہ
الجواب صحیح  
مفتی زکریا   
مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
3 ربیع الثانی 1441
1 دسمبر 2019



Share:

Related Question:

Categeories