11-Dec-2018 /02- Rabī-u-Thani-1440

Question # 7142


شوہر کا جیب خرچ نہ دینا۔؟

اگر شوہر جیب خرچ نہ دیتا ہو بیوی ماسیوں کی طرح سارے کام کرتی ہو اور بچے کو پڑھانے کی ذمہ داری بھی اسی کی ہو اور شوہر جیب خرچ تو چھوڑ اجرت کے نام پہ بھی ایک ٹکا نہ دے تب بیوی کیا کرے؟؟ کیسے اپنی ذاتی ضروریات پوری کرے؟؟ ایسے میں اگر شوہر کے پیسے بناء پوچھے بچے اور گھر پہ ہی لگانے کے لئے استعمال کرے تو کیا جائز ہے؟

Category: Nikah and Weddings (كتاب النكاح والزواج) - Asked By: Mrs - Date: Sep 15, 2018 - Question Visits: 9



Answer:


الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
جواب سے پہلے چند امور سمجھ لیجئے
1۔عورت پر شوہر کی خدمت اور گھر کے کام کاج دیانتا لازم ھیں۔دیانتا کا مطلب یہ ھے کہ شوہر زبردستی قانونا نہیں مجبور کر سکتا البتہ اللہ کے ھاں اس کی پوچھ ھو گی۔
2۔بیوی کے ذمے گھر کے کام کاج اگرچہ دیانتا ذمہ ھیں مگر شریعت نے اس کام کاج کرنے پر اجر بھی رکھا ھے۔بیوی کو یہ کام کاج بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ آخرت میں اجر کے لئے کرنے چاھئے۔ بیوی کو چاھئے کہ اس خدمت پر اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اس کو شوہر دیا جس کی۔خدمت سے وہ جنت کما سکتی ھے۔ایسی بھی تو عورتیں ھیں جن کے پاس شوھر کی نعمت نہیں ۔
3۔ شرعا مرد کے ذمے عورت کے لئے نفقہ اور سکنی قانونا واجب ھے جس میں کپڑے،خوراک اور رہائش کا انتظام کر کے دینا شامل ھے۔ اور اس کا اندازہ عرف کے لحاظ سے ،دستور کے مطابق ھو گا ۔ (رھائش سے مراد
گھرمیں ایک کمرہ بیوی کے لئے مختص کرنا جس میں اس کا سامان ہو اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس میں داخل نہ ہو ان کے علاقہ میں جس قسم کی رہائش دینے کا رواج ہوبشرطیکہ بیوی کی ضروریات پوری ہوسکیں)۔
4۔اولاد کی تعلیم و تربیت کا خرچ باپ کی ذمہ داری ھے ۔
 لڑکیوں کی جب تک شادی نہ ہوجائے اور لڑکے جب تک بالغ نہ ہوجائیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت وغیرہ کا خرچہ باپ کے ذمہ ہوگا اور تعلیم و تربیت جیسے باپ کہے،بچوں کی ماں پر اسی طرح کر نا لازم ہوگا۔ بشرطیکہ شوہر شریعت کے خلاف کوئی حکم۔نہ دے ۔اس میں شوہر کی اطاعت نہیں ۔
اور بچوں کی تربیت جس طرح باپ کے ذمے ھے اس سے بڑھ کر ماں کے ذمے ھے ۔کیوں کہ باپ ھر وقت گھر پر نہیں ھوتا اور ماں ہر وقت گھر پر ھوتی ھے ۔

5۔بیوی کو جیب خرچ دینا نفقہ میں شامل نہیں۔البتہ شوھر کے لئے افضل ھے اور بیوی پر احسان ھے کہ نفقہ واجبہ کے علاوہ اپنی استطاعت کے بقدر کچھ جیب خرچ مقرر کر دے تا کہ بیوی کو۔سہولت ھو اور پیار محبت میں اضافہ ھو۔
سوال کا جواب :

اگر شوہر بیوی کو گھر اور بچوں کا وہ خرچ نہیں دیتا جو اس کے ذمے قانونا واجب ھے،تو بیوی صرف ضرورت کے بقدر رقم ،شوہر کی اجازت کے بغیر لے سکتی ھے اور اس کے لئے شوہر کی اجازت ضروری نہین۔اگر شوہر نان نفقہ ، جو اس کے ذمے واجب ھے، صحیح طرح ادا کر رھا ھے تو بیوی کے لئے جائز نہیں کہ شوہر کے مال کو بغیر اس کی اجازت کے لے ۔

لمافی القرآن الکریم (الطلاق:۷):لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت : إن هندا بنت عتبة قالت : يا رسول الله إن أبا سفيان رجل شحيح وليس يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو يعلم فقال : " خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف "
ترجمہ:
ام المؤمنین حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہندہ بنت عتبہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ !میرا شوہر ابوسفیان بہت بخیل اور حریص ہے وہ مجھ کو اتناخرچ نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کی ضروریات کے لئے کافی ہو جائے البتہ اگر میں اس کے مال میں سے خود کچھ نکال لوں اس طرح اس کو خبر نہ ہو تو ہماری ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو کیا یہ جائز ہے کہ میں شوہر کو خبر کئے بغیر اس کے مال میں سے اپنی اور اولاد کی ضروریات کے بقدر کچھ نکال لوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اور اپنی اولاد کی ضروریات کے بقدر کہ جو شریعت کے مطابق ہو یعنی اوسط درجہ کا خرچ اس کے مال میں سے لے لیا کرو ( بخاری ومسلم) رہیں۔

فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (۲۱/۲۱):( باب إذا لم ينفق الرجل فللمرأة أن تأخذ بغير
علمه ما يكفيها وولدها بالمعروف )أي هذا باب يذكر فيه إذا لم ينفق الرجل فللمرأة أن تأخذ بغير علمه ما يكفيها وولدها (قوله بالمعروف) أي باعتبار عرف الناس في نفقة مثلها ونفقة ولدها۔

وفی الھندیۃ(٥٥٦/۱):الفصل الثاني في السكنى تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز ۔۔۔ امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وغيرها فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك وإن قالت لا أسكن مع أمتك ليس لها ذلك وكذلك لو قالت لا أسكن مع أم ولدك كذا في الظهيرية۔

ما في ’’ فتح القدیر لإبن الہمام ‘‘ : قولہ : (ونفقۃ الأولاد الصغارعلی الأب لا یشارکہ فیہا أحد) قید بالصغر فخرج البالغ ولیس ہذا علی الإطلاق بل الأب إما غنی أو فقیر ، والأولاد إما صغار أو کبار ، فالأقسام أربعۃ : الأول أن یکون الأب غنیا والأولاد کبارا ، فاما اناث أو ذکور ، فالإناث علیہ نفقتھنّ إلی أن یتزوجن إذا لم یکن لہن مال ، ولیس لہ أن یؤاجرہن فی عمل ولا خدمۃ وإن کان لہن قدرۃ ، وإذا طلقت وانقضت عدتہا نفقتہا علی الأب ، والذکور اما عاجزون عن الکسب لزمانۃ أو عمی أو شلل أو ذہاب عقل فعلیہ نفقتہم ۔ (۴/۳۷۱ ، باب النفقۃ ، فصل ونفقۃ الأولاد الصغار الخ ، البحرالرائق ، باب النفقۃ)

واللہ اعلم بالصواب کتبہ مفتی حماد فضل نائب مفتی دار الافتاء جامعہ طہ
الجواب صحیح مفتی زکریا مفتی جامعہ اشرفیہ لاھور
31 مارچ 2018



Share:

Related Question:

Categeories