06-Dec-2019 /08- Rabī-u-Thani-1441

Questions Under: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية)


Q #
262





Q #
0
Mufti sb meeras k bary me 1 msla pochna hy. 59 lakh ropee hon . 3 beety 1 beti or 1biwi k drmian kesy tqseem kren gy. Hur 1 ka hissa kitny roopy ho ga?

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: Abdul Samad - Date: Apr 04, 2016



Q #
1393
السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ و برکاتہ، حضرات مفتیان کرام ان مسائل کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما کر عند اللّٰہ ماجور ہوں محترم محمد افسر محروم نے اپنی زندگی میں زمین کی باقاعدہ تقسیم ایسے کی کہ اپنے ایک بیٹے علی کو زیادہ زمین دی وہ ایسے کہ اصل زمین میں سے دونوں بیٹوں کو دس دس کنال زمین دی اور جو اصل زمین کے ساتھ شاملات بیس کنال تھی اس میں سے تقریباً 17 کنال علی کو دی وہ ایسے کہ علی کی بیوی کو بتایا کہ آپ نے یہاں یہاں سے گھاس کی کٹائی کرنی پوری نشان دہی کی جس میں علی اور اس کی فیملی کو مکمل تصرف کا اختیار تھا اور باقاعدہ اس کو قبضہ بھی دیا افسر مرحوم کی زندگی میں ہی علی کے بیوی بچے اسی نشان دہی کی گئی جگہ سےگھاس اور درختوں کی کٹائی سب کرتے تھے اور آج تک کر رہے ہیں اور اس بات کے گواہ سب پڑوسی رشتہ دار ہیں اور دوسرے بیٹے اسحاق کو علی کی نسبت زمین کم دی اس میں بھی اس کو مکمل قبضہ دیا پھر اسحاق صاحب نے اپنے والد مرحوم کی زندگی میں اپنے کسی قریبی عزیز سے بات کی کہ مجھے زمین کم ملی ہے تو بات والد افسر مرحوم تک پہنچی تو اس موقعہ پر فرمایا کہ یہ اسحاق پٹواری کو بلاے اور اصل زمین کی پیمائش کروائے اگر زمین کم ہوئی توفلاں جگہ سے پوری کرکے دوں گا لیکن اسحاق صاحب نے نہ پٹواری بلایا اور نہ ہی پھر دوبارہ بات کی یعنی بظاہر خاموشی اختیار کر لی والد مرحوم کے سامنے، پھر کافی عرصہ بعد افسر مرحوم فوت ہو گئے تو بیٹے علی نے کہا کہ بھائی اسحاق صاحب کی جو اصل زمین کم ہے تو فلاں ہوتر والے کھیت میں انھیں دیتا ہوں پھر بیٹا علی بھی کئی سالوں بعد فوت ہو گئے اب اسحاق صاحب اپنے بھتیجوں سے یعنی علی مرحوم کے بیٹوں سے تقسیم کے تقریباً بیس سال بعد شاملات والی زمین کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ میری شاملات والی زمین کم ہے لہذا اب وہ برابری کی سطح پر تقسیم ہو گی 1-کیا اسحاق صاحب کا اپنے والد سے زندگی میں کئی سال خاموش رہنا والد سے کئی سال زمین نہ مانگنا پھر کئی سال بھائی سے بھی نہ مطالبہ کرنا اور اب کئی سالوں بعد والد کے فوت ہو جانے اور بھائی کے فوت ہو جانے کے بعد اپنے بھتیجوں سے زمین مانگنا شرعاً درست ہے جن کے والد کو بھی فوت ہوئے 14 سال ہو گئے کیا اسحاق صاحب کا یہ مطالبہ کرنا جائز ہے ؟ اور بھتیجوں سے زمین لینا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائز ہے ؟ 2-اور کیا اسحاق صاحب کا یہ کہنا شاملات والی زمین تقسیم نہیں ہوئی قابل قبول ہو گا شریعت کی نظر میں ؟ کیوں کہ افسر مرحوم نے علی کی بیوی کو باقاعدہ شاملات والی اور اصل زمین کے درمیان جو تقسیم والی لکیر تھی باقاعدہ سمجھائی کہ یہاں سے نیچے آپ لوگوں نے گھاس کاٹنی اور یہاں سے اوپر ان کی ہے اور اسی پر اس وقت سے لیکر آج تک عمل ہو رہا ہے افسر مرحوم کی زندگی میں بھی کئی سال اور علی کی زندگی میں بھی کئی سال، کیا آیا اب اسحاق صاحب کا یہ جملہ کہ شاملات والی زمین تقسیم نہیں ہوئی شریعت کی نظر میں قابلِ عمل ہے ؟؟؟ شاملات والی زمین سے مراد وہ زمین ھے جو حکومت کی ملکیت ھوتی ھے مگر حکومت اصل زمین کے مالک کے ساتھ لگنے کی وجہ سے اس کو اس کو استعمال کرنے دیتی ھے اور اس کا کچھ عوض نہیں لیتی۔مگر مالک حکومت ھوتی ھے۔اس میں اگر جنگل آرھا ھو تو اسکو کاٹنے کی اجازت نہیں ھوتی۔ پلیز باحوالہ راہنمائی فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں محمد امجد آزاد کشمیر نوٹ۔ پہلےھمارے علاقے کے عرف میں زمین کی باقاعدہ پیمائش کر کے تقسیم نہیں کی جاتی تھی ۔بس یہ کہ دیا جاتا ھے ۔یہ پہاڑ تمہارا۔اور یہ فلاں کا۔ بس قریبی افراد کو بلا کر اعلان کر دیتے اور لکیر لگا کر متعین کر دیتے اور قبضہ دے دیتے۔نیز علی نے اپنے باپ کی خوب خدمت کی ۔جبکہ اسحاق کو والد نے ایک دفعہ عاق کر دیا تھا بوجہ نافرمانی کے پھر علی کے سمجھانے پر حصہ دے دیا تھا۔ تنقیح مسئلہ کیا علی نے جو اسحاق کو کہا تھا کہ فلاں ہوتر والے کھیت میں دیتا ھوں تو کیا نہیں دئے تھے؟ جواب جی ،دے دئیے تھے۔

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: محمد امجد آزاد کشمیر - Date: Sep 09, 2019











Q #
8018
ا حضرت جی ایک مسئلہ یہ ھے کہ ایک خاتون نے اپنے والد سے دو لاکھ ادھار لیا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ جب مجھے آسانی ہو گی تب میں یہ رقم واپس کروں گی ان کے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر کچھ عرصے بعد والد کا انتقال ہو گیا پھر اس خاتون نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں نے جو اپنے والد کو ادھار کی رقم واپس کرنی تھی نہیں کر سکی اور ابھی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ آپکو وہ رقم ادا کر دوں تو والدہ نے کہا کہ اگر میرے زندگی میں بھی ادھار کی ادائیگی نہ کر سکو تو میری زندگی کے بعد وہ رقم صدقہ کر دیں اب اسن خاتون کی والدہ بھی انتقال فرما گئیں ہیں اب وہ خاتون یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ میں وہ ادھار کی رقم بہن بھائیوں میں تقسیم کروں یا والدہ کی وصیت کے مطابق اسکو صدقہ کر دوں۔ تنقیح مسئلہ ۔والد صاحب کی وفات کے وقت کون کون زندہ تھا اور والدہ کی وفات کے وقت بھی؟ جواب::والد صاحب کے ورثاء میں زوجہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاںاور والدہ کے ورثاء میں دو بیٹے دو بیٹیاں مسز عمران

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: مسز سمیہ عمران - Date: Dec 02, 2019





Categeories