20-Sep-2020 /02- Ṣafar-1442

Answers






Q #
9000

test

test question

Category: related to clothes - Asked By: Omer Aslam - Date: Jan 16, 2020














Q #
8020

کوئی بیٹا اپنی ذاتی پیسوں سے کوئی جائیداد خرید کر والدکے نام کردینے کا حکم

مستفتی:مولانا یاسر ﷽ سوال:۔(۱) اگر ایک بیٹا اپنے ذاتی پیسوں سے کوئ جائیداد خرید کر اپنے والد کے نام پر منتقل کرواتا ہے پھر والد کی وفات کے بعد وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ میں نے والد کو مالک نہیں بنایا تھا اور نہ ہی حق تصرف دیا تھا بلکہ صرف ان کی عزت و اکرام کے لئے ایسا کیا تھا تو کیا یہ جائیداد اس دعوی کی وجہ سے ترکہ سے نکل جائے گی یا ترکہ ہی شمار ہوگی؟ جبکہ والد نے بھی کبھی عملی طور پر تصرف نہیں کیا تھا ۔کیا اس دعوی کے اعتبار کے لیۓ کسی شرعی ثبوت کی احتیاج ہوگی؟ اگر ہوگی تو اس کا کیا طریقہ کار ہے ۔؟ (2 ) اگر دو یا زیادہ بھائیوں نے اپنے اپنے ذاتی پیسوں سے مشترکہ طورپر جائیداد خریدی اور پھر والد کے نام کرادی ، پھر بعض نے اوپر والا مذکور دعوی کیا اور بعض نے کہا کہ ہم نے تو والد کے نام کرادی تھی اور مالک بنانے اور حق تصرف دینے کی نیت بھی کی تھی اگرچہ والد نے عملی طور پر اس میں کبھی تصرف بھی نہیں کیا تھا تو اس مشترکہ جائیداد میں دعوی والے بھائ کو ترکہ کے ساتھ اپنے مال کے بقدر شریک شمار کریں گے یا پھر سارا ترکہ ہی شمار ہوگا ۔؟ (3 ) اگر دو یا تین بھائیوں نے اپنے ذاتی پیسوں سے ایک مشترکہ جائیداد خریدی جبکہ اپنے میں سے ہی ایک بھائ کو بیع مکمل کرنے کا وکیل بنایا پھر اس وکیل بھائ نے اپنے موکل بھائیوں میں سے بعض کی مرضی کے بغیر یا منع کرنے کے باوجود اپنے چوتھے بھائ کا نام حکومتی کاغذوں میں لکھوادیا یا خود اپنا نام اس میں لکھوادیا جبکہ یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ مال میں شریک نہ تھا تو کیا مرضی کے بغیر یا منع کرنے کے باوجود جس شخص کا نام وکیل بیع نے لکھوایا ہے، وہ اس جائیداد کا مالک شمار ہوگا یا نہیں؟ اور اس نئے شخص کا اس جائیداد پر قبضہ کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں حکم پر کوئ اثر ہوگا یا نہیں؟ (4 ) اسی مذکورہ صورت میں مشتری بھائیوں میں سے جس بھائ کو اپنے وکیل بھائ کے اس فعل کا علم ہوا کہ اس نے کسی دوسرے آدمی کا یا اپنا نام ہماری اجازت کے بغیر لکھوادیا ہے، پھر اس کا علم ہوجانے پر بھی وہ خاموش رہا تو یہ خاموشی اس نئے آدمی کو مالک بنادے گی یا رب المال کا مالک بنانے کی نیت پھر بھی شرط ہے؟ (5) پھر اسی صورت میں اگر رب المال نے نئے آدمی کو قبضہ دیا اور اس قبضہ دینے میں نئے آدمی کو صرف نفع دینے کی نیت کی اور مالک بنانے کی نیت نہ کی تو کیا رب المال کی اس نیت کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟ پھر جایداد کا کیا حکم ہو گا ؟ (6) والد نے اپنی ملکیت والی جائیداد کا کسی ایک یا دو بیٹوں کو منتظم بنایا اور پھر اس کا نفع حاصل کرنے کی اجازت بھی دیدی یا اسی طرح کسی مشترکہ جائیداد میں سے باقی بھائیوں نے اپنے ایک بھائ یا دو بھائیوں کو اس مشترکہ جائیداد کا منتظم بنایا اور پھر نفع حاصل کرنے کی اجازت بھی دیدی تو کیا اس جائیداد سے حاصل ہونے والا نفع اس منتظم بھائ کا ذاتی نفع شمار ہوگا یا نہیں؟ اور اگر اس نفع سے اس نے کوئ مزید جائیداد بنالی ہو تو کیا اجازت شدہ نفع سے بنائ گئ نئی جائیداد اس کی ذاتی شمار ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ایسے نفع کو دوبارہ اسی مشترکہ جائیداد کو بڑھانے یا درست کرنے پر لگایا ہو تو کیا وہ اس مشترکہ جائیداد میں اپنے حصہ کو بڑھانے والا شمار ہوگا یا وہ نفع مشترکہ جائیداد میں ضم ہوجائے گا؟ (7 ) ترکہ ثابت ہوجانے والی جائیداد ہو یا ایسی مشترکہ جائیداد جس کا نفع ایک بھائ سب کی اجازت سے کچھ عرصہ لیتا رہا ، پھر کسی وقت اختلاف کی وجہ سے بعض شرکاء نے اپنے حصہ اور نفع کا مطالبہ کیا، اس کے باوجود اس بھائ نے حصہ یا نفع کا مطالبہ کرنے والے کو نہ دیا اور اس نفع سے مزید کوئ نئ چیز بنالی، اب مطالبہ کرنے والا بھائ کیا اس نئ چیز کی عین میں شریک ہوگا یا منتظم بھائ اس نفع کا ضامن ہوگا ، اور ضمان کی قیمت کا اعتبار کس وقت کا ہوگا؟ (8 ) اگر کوئی ایک بیٹا یا زیادہ بیٹے اپنے والد کو کسی جائیداد کا شرعی مالک بنادے، پھر والد کے انتقال پر یہ جائیداد جب ترکہ بن جائے تو یہ ہدیہ کرنے والے بھائ اپنے دوسرے بھائیوں یا بہن میں سے کسی کو اس بنا پر ترکہ سے محروم کرسکتے ہیں کہ یہ اس جائیداد کے ہدیہ کرنے میں شریک نہ تھا ۔پھر ہدیہ کرنے والے بھائ اپنے اس ہدیہ کی وجہ سے ترکہ میں اس عین کا یا ویسے ترکہ میں زیادہ حصہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ (9) اگر دو یا زیادہ بھائیوں نے کوئ مشترکہ جائیداد خریدی اور اس میں نفع کی نسبت مقرر نہ کی تو کس نسبت سے نفع میں شریک ہوں گے ۔ (10) مشترکہ جائیداد میں نفع کی نیت بھی طے نہ تھی،پھر ایک بھائ اس جائیداد میں محنت کرتا رہا تو آیا اس کو اس محنت کا کوئی بدلہ ملے گا یا نہیں؟ اگر ملے گا تو کتنا ملے گا؟ (11 ) اگر کوئ جائیداد والد کا ترکہ ثابت ہوجائے اور والد کی وفات سے لے کر تقسیم تک جس بھائ نے محنت کی اس سے اس کا بدلہ ملے گا یا نہیں ۔اگر ملے گا تو کتنا ؟اگر محنت کرنے والے بھائ نے اس ترکہ والی جائیداد پے محنت کرکے نفع کمایا اور خود استعمال کرلیا تو اس کا کیا حکم ہے ؟اگر نفع ترکہ کے عین میں لگایا تو کیا حکم ہے ؟اگر ترکہ سے اپنے لئے نیت کرکے کوئ نئ جائیداد بنالی تو کیا حکم ہے؟ (12 ) کسی ایک بھائ کی طرف سے دوسرے بہن بھائیوں کو ہدیہ دئے گئے قیمتی تحائف جن پر مکمل تصرف بھی دیا گیا تھا ، اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا ان قیمتی تحائف کا اعتبار کرکے ترکہ میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ (13 ) اگر کسی بیٹے نے والد کی حیات میں ایسی جائیداد کا کاروبار پر محنت کی جبکہ مالک شرعی والد تھے تو کیا یہ بیٹا والد کی وفات پر ترکہ میں سے اس محنت کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ (14) والدہ کو ہدیہ کیا گیا سونا جس پر والدہ کو تصرف کا حق بھی دیا گیا تھا چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ اگر والدہ نے اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا بیٹی کو ہدیہ کردیا تھا تو کیا اولا ہدیہ کرنے والا بیٹا اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا بچ جانےوالا سونا والدہ کی وفات کے بعد ترکہ بنے گا یا جس نے والدہ کی خدمت کی اس کو مل جائے گا؟ (15) غیر منقولہ جائیداد ہدیہ کرنے والے شخص کا صرف نیت کرلینا کہ میں نے مالک بھی بنایاہے اور قبضہ اور تصرف کا حق بھی دے دیا ہے، یہ نیت کافی ہے یا جس کو ہدیہ کیا جاتا ہے اس کا اس جائیداد میں عملی تصرف ضروری ہے؟ (16) کوئ شخص دوسرے آدمی کو کاغذوں میں اپنی خوشی سے اپنے ساتھ مالک ظاھر کرتا ہے تو کیا کاغذوں میں کسی کو مالک کے طور پر قبول کرلینا اس شخص کا اپنے غیر کو شرعی مالک قبول کرنے کی دلیل ہے ؟ یا اس شخص کا اس آدمی کو مالک بنانے کی نیت علیحدہ سے کرنے کی ضرورت ہے؟ (17 ) ایک بھائ دوسرے بھائ پر کسی حق کا دعوی کرے اور دوسرا انکار کرے تو شرعا ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا کیا اصول ہے؟ (18) اگر دو یا زیادہ بھائیوں کے درمیان کسی جایئداد کی کل ملکیت پر یا مشترکہ کی صورت میں اپنے اپنے حصوں کے کم یا زیادہ ہونے پر اختلاف ہو جائے جبکہ مہیا کئے گئے ثبوت سے بھی قطعی مالک کا تعین ممکن نہ ہو سکے تو فیصل کس اصول کے تحت کسی کی ملکیت متعین کرے۔ (19) اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بھائیوں میں سے ایک بھائ کسی جائیداد میں شرعی مالک نہیں ہے بلکہ غلطی سے یا غلط طریقہ سے اس کا نام مالکوں میں آگیا ہے، تو اس بھائ کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ مزید یہ کہ اگر اس کا ایسی جائیداد پر قبضہ بھی ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: مولانا یاسر - Date: Dec 27, 2019








Q #
8018

والد سے ادھار لی گئی رقم کا حکم

ا حضرت جی ایک مسئلہ یہ ھے کہ ایک خاتون نے اپنے والد سے دو لاکھ ادھار لیا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ جب مجھے آسانی ہو گی تب میں یہ رقم واپس کروں گی ان کے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر کچھ عرصے بعد والد کا انتقال ہو گیا پھر اس خاتون نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں نے جو اپنے والد کو ادھار کی رقم واپس کرنی تھی نہیں کر سکی اور ابھی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ آپکو وہ رقم ادا کر دوں تو والدہ نے کہا کہ اگر میرے زندگی میں بھی ادھار کی ادائیگی نہ کر سکو تو میری زندگی کے بعد وہ رقم صدقہ کر دیں اب اسن خاتون کی والدہ بھی انتقال فرما گئیں ہیں اب وہ خاتون یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ میں وہ ادھار کی رقم بہن بھائیوں میں تقسیم کروں یا والدہ کی وصیت کے مطابق اسکو صدقہ کر دوں۔ تنقیح مسئلہ ۔والد صاحب کی وفات کے وقت کون کون زندہ تھا اور والدہ کی وفات کے وقت بھی؟ جواب::والد صاحب کے ورثاء میں زوجہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاںاور والدہ کے ورثاء میں دو بیٹے دو بیٹیاں مسز عمران

Category: Inheritance & Testament (احكام الميراث والوصية) - Asked By: مسز سمیہ عمران - Date: Dec 02, 2019






Q #
8016
















Categeories